خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 268 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 268

خطبات مسرور جلد 15 268 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 09جون2017 اپنے اخلاق سیئہ کی تبدیلی چاہتا ہے اس کے لئے ضروری ہے کہ سچے دل اور پکے ارادے کے ساتھ تو بہ کرے۔یہ بات بھی یادر کھنی چاہئے کہ تو بہ کے تین شرائط ہیں۔ہدوں ان کی تکمیل کے سچی توبہ جسے توبتہ النصوح کہتے ہیں حاصل نہیں ہوتی۔ان ہر سہ شرائط میں سے پہلی شرط جسے عربی زبان میں اقلاع کہتے ہیں۔یعنی ان خیالات فاسدہ کو دور کر دیا جاوے جو ان خصائل رڈیہ کے محرک ہیں۔"جو رد کرنے کے لائق چیزیں ہیں، عادتیں ہیں، بیہودہ خیالات ہیں، بد اخلاقیاں ہیں ان کو دُور کرنے کے لئے پہلی ضروری شرط یہ ہے کہ انہیں کس طرح دُور کرنا ہے فرمایا اصل بات یہ ہے کہ تصورات کا بڑا بھاری اثر پڑتا ہے " اس کی تفصیل بیان فرماتے ہیں کہ انسان جب کسی چیز کا تصور کرتا ہے تو اس کا انسان کی طبیعت پر بہت بڑا اثر پڑتا ہے " کیونکہ حیطۂ عمل میں آنے سے پیشتر ہر ایک فعل ایک تصوری صورت رکھتا ہے۔"کسی بھی کام کو کرنے کے لئے یا کوئی بھی چیز یا خیال جب عمل میں آتا ہے تو اس سے پہلے وہ ایک خیال ہوتا ہے، ایک تصور ہوتا ہے " پس تو بہ کے لئے پہلی شرط یہ ہے کہ ان خیالات فاسد و تصورات بد کو چھوڑ دے۔مثلاً اگر ایک شخص کسی عورت سے کوئی ناجائز تعلق رکھتا ہو تو اسے تو بہ کرنے کے لئے پہلے ضروری ہے کہ اس کی شکل کو بدصورت قرار دے اور اس کی تمام خصائل رذیلہ کو اپنے دل میں مستحضر کرے کیونکہ جیسا میں نے ابھی کہا ہے تصورات کا اثر بہت زبر دست اثر ہے اور " فرماتے ہیں "میں نے صوفیوں کے تذکروں میں پڑھا ہے کہ انہوں نے تصور کو یہا متک پہنچایا کہ انسان کو بندریا خنزیر کی صورت میں دیکھا۔غرض یہ ہے کہ جیسا کوئی تصور کرتا ہے ویسا ہی رنگ چڑھ جاتا ہے۔پس جو خیالات بد لذات کا موجب سمجھے جاتے تھے ان کا قلع قمع کرے۔یہ پہلی شرط ہے۔" تصور میں ان کو گندہ سمجھے۔دوسری شرط ندم ہے۔یعنی پشیمانی اور ندامت ظاہر کرنا۔ہر ایک انسان کا کانشنس اپنے اندر یہ قوت رکھتا ہے کہ وہ اس کو ہر برائی پر متنبہ کرتا ہے۔" فرمایا مگر بد بخت انسان اس کو معطل چھوڑ دیتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے اس کے اندر جو ایک صلاحیت رکھی ہوئی ہے اس سے کام نہیں لیتا " پس گناہ اور بدی کے ارتکاب پر پشیمانی ظاہر کرے اور یہ خیال کرے کہ یہ لذات عارضی اور چند روزہ ہیں۔" یہ دنیا کی لذات جو ہیں بالکل عارضی ہیں۔چند دنوں کی ہیں " اور پھر یہ بھی سوچے کہ ہر مرتبہ اس لذت اور حظ میں کمی ہوتی جاتی ہے یہاں تک کہ بڑھاپے میں آکر جبکہ قویٰ بیکار اور کمزور ہو جائیں گے آخر ان سب لذات دنیا کو چھوڑنا ہو گا۔پس جبکہ خود زندگی ہی میں یہ سب لذات چھوٹ جانے والی ہیں تو پھر ان کے ارتکاب سے کیا حاصل؟" فرماتے ہیں "بڑا ہی خوش قسمت ہے وہ انسان جو توبہ کی طرف رجوع کرے اور جس میں اوّل اقلاع کا خیال پیدا ہو۔یعنی خیالات فاسدہ و تصورات بیہودہ کو قلع قمع کرے۔جب یہ نجاست اور ناپاکی نکل جاوے تو پھر نادم ہو اور اپنے کئے پر پشیمان ہو۔