خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 267 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 267

خطبات مسرور جلد 15 267 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 09جون2017 "انسان پر جیسے ایک طرف نقص فی الخلق کا زمانہ آتا ہے۔"یعنی کہ کمزوری پیدا ہونی شروع ہو جاتی ہے اس کی بناوٹ میں، جسم کی ظاہری بناوٹ میں " جسے بڑھاپا کہتے ہیں۔اس وقت آنکھیں اپنا کام چھوڑ دیتی ہیں۔اور کان شنوا نہیں ہو سکتے۔غرض کہ ہر ایک عضو بدن اپنے کام سے عاری اور معطل کے قریب قریب ہو جاتا ہے۔اسی طرح سے یاد رکھو کہ پیرانہ سالی دو قسم کی ہوتی ہے یا بڑھا پاد و قسم کا ہوتا ہے۔"طبعی اور غیر طبعی۔طبعی تو وہ ہے جیسا کہ اوپر ذکر ہوا۔" ظاہری جسم کا بڑھاپا ہے یہ طبعی بڑھاپا ہے اور "غیر طبعی وہ ہے کہ کوئی اپنی امراض لاحقہ کا فکر نہ کرے۔" جو مرضیں ہیں ان کی فکر نہ کرو تو وہ انسان کو کمزور کر کے قبل از وقت پیرانہ سال بنادیں۔" بوڑھا کر دیں گی۔اگر فکر نہ کرو گے تو " جیسے نظام جسمانی میں یہ طریق ہے۔" کہ اگر انسان بیماریوں کا علاج نہ کرے تو جسم کمزور ہو جاتا ہے۔جسمانی نظام میں یہ دو طرح کے طریق ہیں۔ایک طبعی بڑھاپا کہ عمر کے ساتھ ساتھ بڑھاپا آتا ہے۔ایک غیر طبعی بڑھاپا ہے جو بعض ایسی وجوہات سے انسان پر آتا ہے یا کمزوری آتی ہے جو بے احتیاطی کی وجہ سے ہوتی ہے۔فرمایا کہ " ایسا ہی اندرونی اور روحانی نظام میں ہوتا ہے۔" ایک ظاہری نظام میں جس طرح یہ دو طرح کے بڑھاپے ہیں اسی طرح اندرونی اور روحانی نظام جو ہے اس میں بھی دو طرح کے بڑھاپے ہیں۔"اگر کوئی اپنے اخلاق فاسدہ کو اخلاق فاضلہ اور خصائل حسنہ سے تبدیل کرنے کی کوشش نہیں کرتا۔" جو برے اور گندے خیالات ہیں ان کو اچھے خیالات اور اچھی باتوں سے تبدیل نہیں کرتا، کوشش نہیں کرتا " تو اس کی اخلاقی حالت بالکل گر جاتی ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد اور قرآن کریم کی تعلیم سے یہ امر بداہت ثابت ہو چکا ہے کہ ہر ایک مرض کی دوا ہے۔لیکن اگر کسل اور ستی انسان پر غالب آجاوے تو بجز ہلاکت کے اور کیا چارہ ہے۔اگر ایسی بے نیازی سے زندگی بسر کرے جیسی کہ ایک بوڑھا کرتا ہے تو کیونکر بچاؤ ہو سکتا ہے۔" ( ملفوظات جلد اوّل صفحہ 136-137) پس آجکل اس سستی کے دور کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے سامان مہیا فرمائے ہیں۔اس ماہ میں اخلاق کی بہتری کی طرف بھی ہر ایک کو توجہ دینی چاہئے اور دوسری کمزوریوں اور گناہوں سے بچنے کی طرف بھی توجہ دینی چاہئے۔اگر اس ماحول کے باوجو د توجہ نہ کی تو جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایاتو پھر انسان بڑھاپے کی حالت میں چلا جائے گا اور اس میں زندگی کا خاتمہ ہے اور پھر اللہ تعالیٰ کے حضور انسان بغیر تقویٰ کے حاضر ہوتا ہے۔پھر حصول اخلاق کے لئے تو بہ کی طرف توجہ دلاتے ہوئے آپ فرماتے ہیں کہ : تو بہ دراصل حصولِ اخلاق کے لئے بڑی محترک اور موید چیز ہے۔" اعلیٰ اخلاق حاصل کرنے ہیں تو وہ بھی تو بہ سے حاصل ہوتے ہیں۔تو بہ صرف یہ نہیں کہ گناہوں سے معافی مانگ لی بلکہ اگر اعلیٰ اخلاق پر چلنا ہے ان کو حاصل کرنا ہے تو اس کے لئے بھی تو بہ بڑی ضروری ہے اور فرمایا کہ " اور انسان کو کامل بنادیتی ہے۔یعنی جو شخص