خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 266
خطبات مسرور جلد 15 266 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 09جون2017 ( ملفوظات جلد اوّل صفحہ 137) ڈور نہیں کرتا ہے جب تک خود قوم اس کو دُور کرنے کی کوشش نہ کرے۔ہمت نہ کرے۔شجاعت سے کام نہ لے تو کیونکر تبدیلی ہو۔" فرماتے ہیں یہ اللہ تعالیٰ کی ایک لا تبدیل سنت ہے جیسے فرمایا۔وَلَن تَجِدَ لِسُنَّةِ اللهِ تبْدِيلًا۔(الاحزاب: 63) پس ہماری جماعت ہو یا کوئی ہو وہ تبدیل اخلاق اسی صورت میں کر سکتے ہیں جب کہ مجاہدہ اور دعا سے کام لیں ورنہ ممکن نہیں ہے۔" پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس بات کو بیان فرماتے ہوئے کہ انسان کے اخلاق جتنے بھی گرے ہوئے ہوں اگر اصلاح کرنا چاہے تو اصلاح ہو سکتی ہے۔جیسا کہ پہلے بھی فرمایا کہ اس کے لئے مجاہدہ کرنا پڑتا ہے۔آپ نے اس بارے میں حکماء کے نظریات کا بھی ذکر فرمایا ہے اور ایک مثال بیان فرمائی ہے۔چنانچہ آپ فرماتے ہیں کہ : " حکماء کے تبدیل اخلاق پر دو مذہب ہیں۔ایک تو وہ ہیں جو یہ مانتے ہیں کہ انسان تبدیل اخلاق پر قادر ہے اور دوسرے وہ ہیں جو یہ مانتے ہیں کہ وہ قادر نہیں۔اصل بات یہ ہے کہ کسل اور سستی نہ ہو اور ہاتھ پیر ہلاوے تو تبدیل ہو سکتے ہیں۔سستی نہ دکھاؤ۔مجاہدہ کرو تو اخلاق بہتر ہو سکتے ہیں۔فرمایا کہ " مجھے اس مقام پر ایک حکایت یاد آئی ہے اور وہ یہ ہے۔کہتے ہیں کہ یونانیوں کے مشہور فلاسفر افلاطون کے پاس ایک آدمی آیا اور دروازے پر کھڑے ہو کر اندر اطلاع کرائی۔افلاطون کا قاعدہ تھا کہ جب تک آنے والے کا حلیہ اور نقوش چہرہ کو معلوم نہ کر لیتا تھا اندر نہیں آنے دیتا تھا۔" اس کا حلیہ اور اس کی ظاہری حالت وغیرہ جب تک پتانہ کرلے اندر نہیں آنے دیتا تھا۔" اور وہ قیافہ سے استنباط کر لیتا تھا کہ شخص مذکور کیسا ہے۔"جو شخص آیا ہے وہ کیسا ہے ؟ ان باتوں سے اندازہ لگالیتا تھا کہ " کس قسم کا ہے؟ نوکر نے آکر اس شخص کا حلیہ حسب معمول بتلایا تو افلاطون نے جواب دیا کہ اس شخص کو کہہ دو کہ چونکہ تم میں اخلاق رذیلہ بہت ہیں میں ملنا نہیں چاہتا۔" تم گھٹیا اخلاق کے مالک ہو۔میں تمہیں نہیں ملنا چاہتا۔" اس آدمی نے جب افلاطون کا یہ جواب سنا تو نوکر سے کہا کہ تم جا کر کہہ دو کہ جو کچھ آپ نے فرمایا وہ ٹھیک ہے مگر میں نے اپنی عادت رذیلہ کا قلع قمع کر کے اصلاح کرلی ہے۔"گندی باتیں، بد اخلاقیاں ختم کر دی ہیں۔" اس پر افلاطون نے کہا۔ہاں یہ ہو سکتا ہے۔چنانچہ اس کو اندر بلایا اور نہایت عزت و احترام کے ساتھ اس سے ملاقات کی۔" آپ فرماتے ہیں کہ " جن حکماء کا یہ خیال ہے کہ تبدیل اخلاق ممکن نہیں وہ غلطی پر ہیں۔ہم دیکھتے ہیں کہ بعض ملازمت پیشہ لوگ جو رشوت لیتے ہیں جب وہ سچی توبہ کر لیتے ہیں پھر اگر ان کو کوئی سونے کا پہاڑ بھی دے تو اس پر نگاہ نہیں کرتے۔" ( ملفوظات جلد اوّل صفحہ 137-138) پھر آپ اخلاق کی درستی کی طرف توجہ دلاتے ہوئے ایک مثال دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ