خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 265
خطبات مسرور جلد 15 265 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 09 جون 2017 پہاڑ بخشتے ہیں۔حلم میں اپنی شان دکھاتے ہیں تو واجب القتل کو چھوڑ دیتے ہیں۔الغرض رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بے نظیر اور کامل نمونہ ہے جو خدا تعالیٰ نے دکھا دیا ہے۔" آپ فرماتے ہیں کہ اس کی مثال ایک بڑے عظیم الشان درخت کی ہے جس کے سائے میں بیٹھ کر انسان اس کے ہر جزو سے اپنی ضرورتوں کو پورا کر لے۔اُس کا پھل، اُس کا پھول، اُس کی چھال، اس کے پتے غرض کہ ہر چیز مفید ہو۔" پھر آپ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خُلق کے بارے میں مزید فرماتے ہیں کہ "لڑائی میں سب سے بہادر وہ سمجھا جاتا تھا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہو تا تھا کیونکہ آپ بڑے خطر ناک مقام میں ہوتے تھے۔سبحان اللہ کیا شان ہے۔فرماتے ہیں کہ " ایک وقت آتا ہے کہ آپ کے پاس اس قدر بھیڑ بکریاں تھیں کہ قیصر و کسریٰ کے پاس بھی نہ ہوں۔آپ نے وہ سب ایک سائل کو بخش دیں۔"خُلق کا یہ اظہار ہے۔" اب اگر پاس نہ ہو تا تو کیا بخشتے ؟ " پھر ایک اور رنگ ہے " اگر حکومت کا رنگ نہ ہو تا تو یہ کیونکر ثابت ہو تا کہ آپ واجب القتل کفار مکہ کو باوجود مقتدرت انتقام کے بخش سکتے ہیں۔" قدرت رکھتے ہیں،طاقت ہے اس کے باوجود بخش دیا " جنہوں نے صحابہ کرام اور حضور علیہ الصلوۃ والسلام اور مسلمان عورتوں کو سخت سے سخت اذیتیں اور تکلیفیں دی تھیں جب وہ سامنے آئے تو آپ نے فرمایا۔لَا تَثْرَيْبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ - (یوسف:93) میں نے آج تم کو بخش دیا۔اگر ایسا موقع نہ ملتا تو ایسے اخلاق فاضلہ حضور (صلی اللہ علیہ وسلم) کے کیونکر ظاہر ہوتے۔" آپ فرماتے ہیں کہ " کوئی ایسا خُلق بتلاؤ جو آپ میں نہ ہو اور پھر بدرجہ غایت کامل طور پر نہ ہو۔" (ملفوظات جلد اوّل صفحہ 132 تا 134) پس یہ وہ کامل نمونے ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس رسول کے اُسوہ کی تم بھی حتی الوسع، اپنی طاقت اور اپنی استعدادوں کے مطابق پیروی کرو۔اس اُسوہ کی پیروی کرنے کے لئے کوشش کرنی ہو گی۔ایک جد وجہد کرنی ہو گی۔صرف یہ کہہ دینا کہ اس اُسوہ پر ہم کس طرح چل سکتے ہیں؟ یہ کافی نہیں ہے کہ یہ تو اللہ تعالیٰ کے رسول کا وہ اسوہ ہے جو بڑا اعلیٰ نمونے کا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس کی تم نے پیروی کرنی ہے۔اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنانے کا حکم دیا ہے تو پھر اس کے لئے کوشش اور مجاہدے کی ضرورت ہے۔چنانچہ اس بارے میں بیان فرماتے ہوئے آپ فرماتے ہیں کہ : "جب تک انسان مجاہدہ نہ کرے گا، دعا سے کام نہ لے گا وہ عمرہ جو دل پر پڑ جاتا ہے دُور نہیں ہو سکتا۔" وہ سختی اور تاریکی روک جو دل میں پیدا ہو گئی ہے وہ دور نہیں ہو سکتی جب تک مجاہدہ نہ کرو، جب تک دعانہ کرو۔پھر اس کے ساتھ ہی کوشش اور دعا دونوں چیزیں ضروری ہیں۔" چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے اِنَّ اللهَ لَا يُغَيرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى يُغَيْرُوْا مَا بِأَنْفُسِهِمْ (الرعد:12) یعنی خدا تعالیٰ ہر ایک قسم کی آفت اور بلا کو جو قوم پر آتی ہے