خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 264 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 264

خطبات مسرور جلد 15 264 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 09جون2017 آپ فرماتے ہیں "مثلاً عقل ماری جاوے تو مجنون کہلاتا ہے۔صرف ظاہری صورت سے ہی انسان کہلاتا ہے۔" کوئی پاگل ہو تو ظاہری صورت سے وہ انسان کہلاتا ہے۔لیکن اس کی عقل بالکل نہیں ہے اور جو انسانوں میں عقل ہوتی ہے وہ اس سے عاری ہو جاتا ہے " پس اخلاق سے مراد خدا تعالیٰ کی رضا جوئی۔" اور وہ رضا جوئی کیا ہے ؟ ( جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عملی زندگی میں مجسم نظر آتا ہے ) اخلاق وہ ہیں جو اللہ تعالیٰ چاہتا ہے۔اور اللہ تعالیٰ کیا چاہتا ہے وہ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں آپ کے ہر پہلو سے ہمیں نظر آتا ہے " کا حصول ہے۔" یہ ہمارا مقصد ہونا چاہئے۔اخلاق سے مراد خدا تعالیٰ کی رضا جوئی کا حصول ہے۔" اس لئے ضروری ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرزِ زندگی کے موافق اپنی زندگی بنانے کی کوشش کرے۔یہ اخلاق بطور بنیاد کے ہیں۔اگر وہ متزلزل رہے تو اس پر عمارت نہیں بنا سکتے۔اخلاق ایک اینٹ پر دوسری اینٹ کا رکھنا ہے۔اگر ایک اینٹ ٹیڑھی ہو تو ساری دیوار ٹیڑھی رہتی ہے۔کسی نے کیا اچھا کہا ہے، خشت اول چوں نہد معمار کج تاثریا می رود دیوار کج " کہ اگر معمار پہلی اینٹ ہی ٹیڑھی لگا دے تو اس سے بنے والی دیواریں جو ہیں وہ آسمان تک پھر ٹیڑھی ہی جائیں گی۔( ملفوظات جلد اوّل صفحہ 132) پھر آپ فرماتے ہیں: " ان باتوں کو نہایت توجہ سے سننا چاہئے۔اکثر آدمیوں کو میں نے دیکھا اور غور سے مطالعہ کیا ہے کہ بعض سخاوت تو کرتے ہیں" بڑے سخی ہیں۔لوگوں کو دیتے بھی ہیں " لیکن ساتھ ہی غصہ ور اور رو در نج " بھی ہوتے " ہیں۔" غصہ میں فوراً آ جاتے ہیں " بعض حلیم تو ہیں لیکن بخیل ہیں۔" بڑے حلیم ہیں، نرم مزاج ہیں لیکن کنجوس ہیں " بعض غضب اور طیش کی حالت میں ڈنڈے مار مار کر گھائل کر دیتے ہیں مگر تواضع اور انکسار نام کو نہیں۔بعض کو دیکھا ہے کہ تواضع اور انکسار تو اُن میں پرلے درجہ کا ہے مگر شجاعت نہیں ہے۔۔۔یا تو غصہ میں آگئے تو انکساری اور عاجزی کوئی نہیں۔اگر انکساری اور عاجزی دکھائیں گے تو پھر جہاں بہادری کی ضرورت ہے وہ خُلق ان میں ختم ہو جاتا ہے۔پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کے بارے میں آپ فرماتے ہیں کہ : اللہ تعالی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں فرمایا کہ انكَ لَعَلى خُلُقٍ عَظِيمٍ۔اور زندگی کے ہر میدان میں آپ نے اپنے خُلق کے وہ نمونے قائم کر دیئے جو اپنی مثال آپ ہیں اور جن پر اپنی طاقت اور بساط کے مطابق چلنا ہر مومن کا فرض ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں فرمایا کہ ایک وقت ہے کہ آپ فصاحت بیانی سے ایک گروہ کو تصویر کی صورت حیران کر رہے ہیں۔ایسی تقریر اور ایسی فصاحت بیانی ہے کہ بڑا مجمع جو ہے وہ متاثر ہو جاتا ہے۔ایک وقت آتا ہے کہ تیر و تلوار کے میدان میں بڑھ کر شجاعت دکھاتے ہیں۔سخاوت پر آتے ہیں تو سونے کے