خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 263
خطبات مسرور جلد 15 263 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 09جون2017 ہے۔جو شخص اچھے اخلاق ظاہر کرتا ہے اس کے دشمن بھی دوست ہو جاتے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اردفَعْ بِالینی هيَ أَحْسَنُ۔" (المومنون: 97) فرمایا ایک تو یہ کہ برائیوں سے بچنا یہ تقویٰ ہے۔اچھے اخلاق کا اظہار کرنا یہ تقویٰ ہے جس سے دشمن بھی دوست ہو جاتا ہے۔آپ فرماتے ہیں " اب خیال کرو کہ یہ ہدایت کیا تعلیم دیتی ہے ؟ اس ہدایت میں اللہ تعالیٰ کا یہ منشاء ہے کہ اگر مخالف گالی بھی دے تو اس کا جواب گالی سے نہ دیا جائے بلکہ اس پر صبر کیا جائے۔اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ مخالف تمہاری فضیلت کا قائل ہو کر خود ہی نادم اور شر مندہ ہو گا اور یہ سزا اس سزا سے بہت بڑھ کر ہو گی جو انتظامی طور پر تم اس کو دے سکتے ہو۔" فرماتے ہیں یوں تو ایک ذرا سا آدمی اقدام قتل تک نوبت پہنچا سکتا ہے لیکن انسانیت کا تقاضا اور تقویٰ کا منشاء یہ نہیں ہے۔خوش اخلاقی ایک ایسا جو ہر ہے کہ موذی سے موذی انسان پر بھی اس کا اثر پڑتا ہے "۔فرماتے ہیں " کسی نے کیا اچھا کہا ہے کہ (فارسی میں ) لطف کن لطف که بیگانه شود حلقه بگوش" (ملفوظات جلد اول صفحہ 81) کہ مہربانی سے پیش آؤ تو بیگانے بھی تمہارے حلقہ احباب میں شامل ہو جائیں گے۔پس یہ وہ اصولی بات ہے جو ہمیشہ ہمیں پیش نظر رکھنی چاہئے کہ اپنے ہر عمل کو تقویٰ کے تابع کرتے ہوئے اچھے اخلاق کا مظاہرہ ہو۔پھر اس بات کی مزید وضاحت فرماتے ہوئے کہ اخلاق سے کیا مراد ہے اور ان کا مقصد کیا ہے ؟ جو اچھے اخلاق کا مظاہرہ ہے اس کا مقصد کیا ہے ؟ اور ہمارے سامنے ان اخلاق کا نمونہ کیا ہے؟ آپ فرماتے ہیں کہ : " اول اخلاق جو انسان کو انسان بناتا ہے۔اخلاق سے کوئی صرف نرمی کرنا ہی مراد نہ لے لے۔"جو اخلاق انسان کو انسان بناتے ہیں ان سے صرف اتنی مراد نہیں ہے کہ تم دوسروں سے نرمی سے پیش آؤ فرمایا الخلق اور خلق دو لفظ ہیں جو بالمقابل معنوں پر دلالت کرتے ہیں۔خلق ظاہری پیدائش کا نام ہے۔جیسے کان ناک یہانتک کہ بال وغیرہ بھی سب خلق میں شامل ہیں اور خُلق باطنی پیدائش کا نام ہے۔ایسا ہی باطنی قومی جو انسان اور غیر انسان میں مابہ الامتیاز ہیں وہ سب خُلق میں داخل ہیں یہاں تک کہ عقل فکر وغیرہ تمام قوتیں خُلق ہی میں داخل ہیں۔" فرماتے ہیں" خُلق سے انسان اپنی انسانیت کو درست کرتا ہے۔اگر انسانوں کے فرائض نہ ہوں تو فرض کرنا پڑے گا" انسانوں کے جو فرائض ہیں وہ اگر ادانہ کرتا ہو یا مقرر نہ ہوں تو پھر فرض کرنا پڑے گا، دیکھنا پڑے گا " کہ آدمی ہے ؟ گدھا ہے؟ یا کیا ہے؟ جب خُلق میں فرق آجاوے تو صورت ہی رہتی ہے۔" انسان بننے کے لئے تو اعلیٰ اخلاق ضروری ہیں اور اگر خُلق اچھا نہیں، اگر ان میں فرق آجاتا ہے تو پھر ظاہری صورت انسان کی رہ جاتی ہے اور جو اصل انسانیت ہے وہ ختم ہو جاتی ہے۔