خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 262 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 262

خطبات مسرور جلد 15 262 23 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 09جون2017 خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 09 جون 2017ء بمطابق 109 احسان 1396 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح، مورڈن، لندن، یو کے تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: گزشتہ خطبہ میں میں نے بیان کیا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے روزوں اور رمضان کا جو مقصد بیان فرمایا ہے وہ دلوں میں تقویٰ پیدا کرنا ہے اور اس حوالے سے میں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بعض اقتباسات پیش کئے تھے کہ اس کے حصول کے لئے کیا طریق ہیں اور ہمیں کس طرح یہ اختیار کرنا چاہئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس مضمون کو ہمارے دلوں میں بٹھانے کے لئے مختلف جگہوں پر اس کی مزید تفصیلات بیان فرمائی ہیں تا کہ ہمارے دلوں میں اس کی اہمیت راسخ ہو جائے اور ہمارے ہر عمل اور خُلق سے اس کا اظہار ہونے لگے کیونکہ اگر تقویٰ نہیں تو کسی بھی قسم کی نیکی جو اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لئے ہو ، نہیں ہو سکتی۔ہر انسان عارضی اور وقتی نیکیاں کسی وقتی جوش اور وجہ سے کر لیتا ہے لیکن اس میں با قاعدگی تبھی آتی ہے جب حقیقی تقویٰ ہو۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس بات کو بیان فرماتے ہوئے کہ انسان کے متقی ہونے کے لئے صرف اتنا ہی کافی نہیں کہ وہ عبادت کرنے والا ہو یا صرف حقوق اللہ کی ادائیگی کر رہا ہو بلکہ آپ نے یہ بیان فرمایا کہ متقی وہ ہے جس کا اخلاقی معیار بھی اعلیٰ ہو اور وہ اپنے اخلاق سے دوسروں پر اپنی نیکی اور تقویٰ کا اثر قائم کرے۔چنانچہ آپ نے ایک موقع پر فرمایا کہ : " اخلاق انسان کے صالح ہونے کی نشانی ہے۔" ( ملفوظات جلد اوّل صفحہ 128) پھر اس بات کو بیان فرماتے ہوئے کہ ایک مومن کی زندگی کا مقصد یہ ہونا چاہئے کہ اسلام کی تعلیم کی خوبصورتی ہمیشہ ظاہر کی جائے اور یہ اس صورت میں ممکن ہے جب تقویٰ پر چلتے ہوئے اعلیٰ اخلاق کا مظاہرہ کیا جائے۔آپ فرماتے ہیں کہ : " تقویٰ کے بہت سے اجزاء ہیں۔عجب، خود پسندی، مال حرام سے پر ہیز اور بد اخلاقی سے بچنا بھی تقویٰ