خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 261 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 261

خطبات مسرور جلد 15 261 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 02 جون 2017 کیونکہ غیر احمدی تھیں اور ان کا صحیح تعاون نہیں تھا تو پھر وہاں سے اس کا تعلق ختم ہو گیا۔1953ء میں انہوں نے حیدر آباد دکن سے ایک خاتون حمیدہ بیگم سے دوسری شادی کی۔ان سے ان کی چار بیٹیاں اور ایک بیٹا ہے۔آپ کے بیٹے خواجہ بشیر احمد صاحب تعلیم الاسلام سکول قادیان کے ہیڈ ماسٹر ہیں۔اور ان کی ایک بیٹی سلیمہ قمر صاحبہ ، نصیر احمد قمر صاحب ایڈیشنل وکیل اشاعت لندن کی اہلیہ ہیں۔اسی طرح ایک اور داماد بھی آپ کے حفیظ بھٹی صاحب قادیان میں سلسلہ کی خدمت کر رہے ہیں۔ان کی بیٹی، نصیر قمر صاحب کی اہلیہ لکھتی ہیں کہ بیشمار خوبیوں کے مالک تھے۔دعا گو ، سادہ مزاج ، جفاکش، خوش مزاج، خلافت کے شیدائی، نہایت شریف النفس انسان تھے۔اور کہتی ہیں جب میں شادی ہو کے ربوہ گئی ہوں تو میں ذرا افسردہ تھی۔مجھے کہا افسردہ ہونے کی ضرورت نہیں۔تم تو خوش قسمت ہو کہ ہر جمعہ کو خلیفہ وقت کا خطبہ براه راست سنا کرو گی۔ہر وقت مسجد کی طرف ان کی توجہ رہتی کہ ہر نماز میں مسجد میں جایا کروں۔چند سال پہلے سٹروک ہوا جس کی وجہ سے مسجد نہیں جاسکتے تھے تو ہمیشہ یہ دعا کرتے تھے اور لوگوں کو کہتے تھے کہ یہ دعا کرو کہ اللہ تعالیٰ میری ٹانگوں میں اتنی جان ڈال دے کہ میں مسجد جاسکوں۔اور بیشمار نیکیوں کے مالک تھے۔اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے۔باوجو د غربت کے ، تنگی حالات کے ، انہوں نے اپنی بیٹیوں کو بھی پڑھایا اور بی۔اے تک تعلیم دلوائی اور ان کے بیٹے نے بھی بی۔ایس۔سی ، بی۔ایڈ اور ایم۔اے کیا اور جیسا کہ میں نے بتایا تعلیم الاسلام سکول کے ہیڈ ماسٹر ہیں۔اللہ تعالیٰ ان کی اولاد کو اور اولاد در اولاد کو، نسلوں کو خلافت سے وفا کا تعلق رکھنے کی توفیق دے اور جو قربانیاں انہوں نے کی ہیں وہ آئندہ بھی ان کی اولاد کو بھی اور نسلوں کو بھی یاد رکھنے اور جماعت سے وفا کا تعلق رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔(الفضل انٹر نیشنل مورخہ 23 جون 2017 ء تا 29 جون 2017ء جلد 24 شمارہ 25 صفحہ 05 تا08)