خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 260
خطبات مسرور جلد 15 260 فرمودہ مورخہ 02 جون 2017 پس ایک اور رمضان کا ہماری زندگیوں میں آنا اور اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا کہ رمضان اس لئے آتا ہے کہ تم تقویٰ اختیار کرو اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا یہ فرمانا کہ اس سلسلہ کو اللہ تعالیٰ نے تقویٰ کے لئے ہی قائم کیا ہے ہم پر بڑی ذمہ داری ڈالتا ہے کہ ہم ہر وقت اپنی حالتوں کے جائزے لیتے رہیں۔اور اللہ تعالیٰ نے جو یہ خاص فضل کے دن رکھے ہوئے ہیں ان میں اپنے اندر ایسی تبدیلیاں پیدا کریں اور اپنے تقویٰ کے معیاروں کو ایسا بڑھانے کی کوشش کریں جو خدا تعالیٰ ہم سے چاہتا ہے۔اور پھر رمضان تک ہی محدود نہ رہیں بلکہ اسے اپنی زندگیوں کا حصہ بنا لیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔نماز کے بعد ایک جنازہ غائب بھی پڑھاؤں گا جو مکرم خواجہ احمد حسین صاحب درویش قادیان کا ہے جو مکرم محمد حسین صاحب کے بیٹے تھے۔31 مئی 2017ء کو 92 سال کی عمر میں ان کی وفات ہو گئی۔اِنَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔1926ء میں قادیان کے نزدیک گاؤں سیکھواں میں پیدا ہوئے۔ان کے نانا حضرت میاں امام دین صاحب اور ان کے دو بھائی میاں جمال دین صاحب اور میاں خیر دین صاحب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابی تھے۔خواجہ احمد حسین صاحب کا بچپن انتہائی غربت میں گزرا۔9 سال کی عمر میں اپنے خاندان کے ساتھ قادیان آکر آباد ہوئے اور حالات کی وجہ سے تعلیم حاصل نہ کر سکے لیکن بچپن میں پڑھائی کا شوق تھا۔ذاتی کوشش سے پہلے قرآن شریف پڑھنا سیکھ لیا۔پھر قادیان میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی مجالس عرفان میں شامل ہوتے تھے اور وہیں سے انہوں نے اپنے علم کو بہت بڑھایا۔تقسیم ملک کے وقت حضرت مصلح موعودؓ کی تحریک پر اپنے والدین سے مشورہ کر کے قادیان میں رہنے پر راضی ہو گئے اور درویشی اختیار کی۔جہاں جماعت پر ایک ایسا وقت بھی آیا کہ درویشوں کو گزارہ الاؤنس کے لئے انجمن کے پاس رقم نہیں تھی، وسائل محدود تھے تو تب بعض ہنر مند درویشوں کو کہا گیا کہ باہر جا کر روزگار تلاش کریں۔آپ ٹیلرنگ کا کام جانتے تھے۔چنانچہ اس لحاظ سے 1953 سے 62ء تک جنوبی ہند میں قیام کے دوران یہ اپنا روزگار خود مہیا کرتے رہے۔پھر واپس قادیان آگئے۔اور پھر صدر انجمن احمدیہ کے مختلف دفاتر میں ان کو خدمت کی توفیق ملتی رہی۔1989ء میں آپ ریٹائر ہو گئے۔اور جماعتی خدمات کے ساتھ ساتھ قادیان میں مسجد مبارک کے گیٹ کے سامنے انہوں نے اپنی ایک سلائی کی دکان بھی کھول لی۔نمازوں کے پابند، تہجد گزار، نہایت خاموش اور خوش اخلاق انسان تھے۔2005ء میں یہاں جلسہ یو کے میں ان کو بھی شرکت کی توفیق ملی۔حضرت خلیفتہ المسیح الثانی سے لے کے خلافت خامسہ تک چار خلافتوں کو دیکھنے کی توفیق ملی۔ہمیشہ اپنا کام خود کرنے کے عادی تھے۔اولاد کو ہمیشہ خلافت سے وابستگی کی تلقین کرتے تھے۔ان کی پہلی شادی ان کے رشتہ داروں میں ہوئی تھی اور کیونکہ جماعت کا حکم تھا کہ عورتوں کو پاکستان بھجوا دیا جائے تو انہوں نے اپنی بیوی کو پاکستان بھجوا دیا۔یہ ان کی پہلی شادی تھی۔ان کی والدہ