خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 257 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 257

خطبات مسرور جلد 15 257 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 02 جون 2017 کی طرف لے جانے والی، گناہ کی طرف بلانے والی ان سب چیزوں کو اللہ تعالیٰ پھر ختم کر دیتا ہے۔فرماتے ہیں کہ "بیوی کی ضرورت ہو تو بیوی دیتا ہے۔دوا کی ضرورت ہو تو دوا دیتا ہے۔جس شئے کی حاجت ہو وہ دیتا ہے اور ایسے مقام سے روزی دیتا ہے کہ اسے خبر نہیں ہوتی۔" آپ فرماتے ہیں " ایک اور آیت قرآن شریف میں ہے اِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةُ اَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا (حم السجدة: 31)۔" فرماتے ہیں کہ " اس سے بھی مراد متقی ہیں۔" یعنی وہ لوگ جنہوں نے کہا کہ اللہ ہمارا رب ہے اور پھر مستقل مزاجی سے اس عقیدے پر قائم ہو گئے کہ اللہ ہمارا رب ہے۔وہی ہماری سب ضرورتوں کو پوری کرنے والا ہے۔وہی پالنے والا ہے۔ان پر فرشتے یہ کہتے ہوئے اتریں گے کہ ڈرونہ اور تمہارے جو کوئی پچھلے فعل ہیں، عمل ہیں ان پر بھی خوف نہ کھاؤ کیونکہ اب تم نے تقویٰ اختیار کر لیا۔آپ فرماتے ہیں کہ " اس سے بھی مراد متقی ہیں۔ثُمَّ اسْتَقَامُوا۔یعنی ان پر زلزلے آئے، ابتلاء آئے، آندھیاں چلیں مگر ایک عہد جو اس سے کر چکے اس سے نہ پھرے۔" خدا تعالیٰ سے ثابت قدمی کا عہد کر لیا۔یہ نہیں کہ سال کے سال رمضان آئے گا تو پھر اس پر عمل ہو گا اور تقویٰ اختیار ہو گا اور ایک مہینہ میں جنت کے دروازے کھل جائیں گے۔استقامت شرط ہے۔آپ فرماتے ہیں " پھر آگے خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب انہوں نے ایسا کیا اور صدق اور وفاد کھلائی تو اس کا اجر یہ ملا تَتَنَزِّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَائِكَة '۔یعنی ان پر فرشتے اترے اور کہا کہ خوف اور حزن مت کرو۔" غم مت کر۔"تمہارا خدا متولی ہے۔وَابْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِي كُنْتُمْ تُوعَدُونَ (حم السجدة: 31) اور بشارت دی کہ تم خوش ہو اس جنت سے۔" فرماتے ہیں کہ " اس جنت سے یہاں مراد دنیا کی جنت ہے۔"اگلے جہان کی جنت نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ تقویٰ پر چلنے والوں کو اس جنت کی بشارت دے رہا ہے۔"جیسے قرآن مجید میں ہے وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ جَنَّتْنِ" (الرحمن: 47)۔" پھر فرماتے ہیں " پھر آگے ہے نَحْنُ أَوْلِيَؤُكُمْ فِي الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَفِي الأخرة ( حم السجدہ : 32)۔دنیا اور آخرت میں ہم تمہارے ولی اور متکفل ہیں۔" ( ملفوظات جلد 4 صفحہ 251 تا 253) پس اللہ تعالیٰ مستقل مزاجی سے نیکیوں پر قائم ہونے والوں کے گناہ معاف کرتا ہے۔اور پھر یہی نہیں بلکہ انہیں دنیا کی نعمتوں سے بھی نوازتا ہے اور آخرت میں بھی ولی اور متکفل ہوتا ہے۔کتنے خوش قسمت ہیں ہم میں سے وہ جو رمضان میں اپنی حالتوں کو بدلتے ہوئے مستقل مزاجی سے اللہ تعالیٰ کے احکامات کے مطابق اپنی زندگیاں گزارنے والے ہیں اور اس کوشش میں ہیں کہ اس طرح اپنی زندگیاں گزاریں۔تقویٰ اور استقامت اختیار کرنے کے بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مزید فرماتے ہیں کہ : اوائل میں جو سچا مسلمان ہوتا ہے اسے صبر کرنا پڑتا ہے۔شروع شروع میں تو صبر کرنا پڑتا ہے۔"صحابہ