خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 258
خطبات مسرور جلد 15 258 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 02 جون 2017 پر بھی ایسے زمانے آئے ہیں کہ پتے کھا کھا کر گزارہ کیا۔بعض وقت روٹی کا ٹکڑا بھی میسر نہیں آتا تھا۔کوئی انسان کسی کے ساتھ بھلائی نہیں کر سکتا جب تک خدا تعالیٰ بھلائی نہ کرے۔جب انسان تقویٰ اختیار کرتا ہے تو خدا تعالیٰ اس کے واسطے دروازہ کھول دیتا ہے۔مَن يَتَّقِ اللهَ يَجْعَل لَّهُ مَخْرَجًا وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لا يَحْتَسِبُ (الطلاق: 3-4) خدا تعالیٰ پر سچا ایمان لاؤ۔" آپ فرماتے ہیں سچا ایمان لاؤ۔اس آیت کے دو حصے ہیں۔آیت کا ترجمہ یہ ہے کہ جو اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرے گا اللہ تعالیٰ اس کے لئے کوئی راستہ نکال دے گا اور اسے وہاں سے رزق دے گا وَيَرْزُقُهُ مِنْ حَيْثُ لا يَحْتَسِبُ - ایسی جگہ سے رزق دے گا جہاں سے اس رزق کا خیال بھی نہیں آتا۔آپ فرماتے ہیں " خدا تعالیٰ پر سچا ایمان لاؤ۔اس سے سب کچھ حاصل ہو گا۔استقامت چاہئے۔انبیاء کو جس قدر درجات ملے ہیں استقامت سے ملے ہیں۔" فرمایا کہ : " خالی خشک نمازوں اور روزوں سے کیا ہو سکتا ہے۔" (ملفوظات جلد 4 صفحہ 204) رمضان میں صرف روزے اور نمازیں پڑھ لیں تو اس سے کچھ نہیں ہو گا۔مستقل مزاجی ہو گی تو سب کچھ ملے گا۔پس اللہ تعالی ہمیں متقی بنانا چاہتا ہے تاکہ اس کے بے حساب فضلوں کے دروازے ہم پر کھلیں۔اور رمضان میں خاص طور پر وہ اپنے فضلوں کے دروازے تقویٰ اختیار کرنے والوں کے لئے کھولتا ہے۔متقی بننے کے لئے نہ صرف برائیوں کو چھوڑنا ہے بلکہ نیکیاں بھی اختیار کرنی ہیں۔اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک جگہ فرماتے ہیں کہ : " متقی بننے کے واسطے یہ ضروری ہے کہ بعد اس کے کہ موٹی باتوں جیسے زنا، چوری، تلف حقوق، ریا، عجب، حقارت، بخل کے ترک میں پکا ہو۔تو اخلاق رذیلہ سے پر ہیز کر کے ان کے بالمقابل اخلاق فاضلہ میں ترقی کرے۔" جتنے گھٹیا اخلاق ہیں ان سے بچے اور جو اچھے اخلاق ہیں ان میں ترقی کرے۔یہ ضروری شرط ہے۔فرمایا کہ "لوگوں سے مروت، خوشی خلقی، ہمدردی سے پیش آوے۔خدا تعالیٰ کے ساتھ سچی وفا اور صدق دکھلاوے۔خدمات کے مقام محمود تلاش کرے۔ایسی نیکیاں اور ایسی خدمات کرے جو قابل تعریف ہوں، غیر معمولی ہوں۔تقویٰ کے معیار تبھی ملتے ہیں کہ بے نفس ہو کر دوسروں سے نیکیاں کی جائیں۔اللہ کے حقوق بھی، بندوں کے حقوق بھی ایسے اعلیٰ مقام پر ایسے اعلیٰ درجے کے ہوں جو قابل تعریف ہوں۔فرمایا کہ " ان باتوں سے انسان متقی کہلاتا ہے۔اور جو لوگ ان باتوں کے جامع ہوتے ہیں۔" جن میں یہ سب باتیں جمع ہو جاتی ہیں " وہی اصل متقی ہوتے ہیں۔(یعنی اگر ایک ایک خُلق فردا فردا کسی میں ہوں تو اسے متقی نہ کہیں گے جب تک بحیثیت مجموعی اخلاق فاضلہ اس میں نہ ہوں۔) اور ایسے ہی شخصوں کے لئے لا خَوْفٌ عَلَيْهِمُ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ (البقرة: 63) ہے۔اور اس کے بعد ان کو کیا چاہئے۔اللہ تعالیٰ ایسوں کا متوتی ہو جاتا ہے جیسے کہ وہ