خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 256
خطبات مسرور جلد 15 256 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 02 جون 2017 کوئی زانی زنا نہیں کرتا مگر اس حالت میں کہ وہ مومن نہیں ہوتا۔جب ایمان کی حالت ختم ہو جاتی ہے تو پھر ہی ایسے فعل سر زد ہوتے ہیں۔آپ فرماتے ہیں کہ " جیسے بکری کے سر پر شیر کھڑا ہو تو وہ گھاس بھی نہیں کھا سکتی تو بکری جتنا ایمان بھی لوگوں کا نہیں ہے۔" کیونکہ مجلس میں ذکر ہو رہا تھا اس لئے اسی بات کا اخبار میں ایک دوسری جگہ اس طرح بیان ہوا ہے کہ آپ نے فرمایا کہ "حدیث میں آیا ہے کہ چور چوری نہیں کرتا جبکہ مومن ہو۔یہ بالکل سچی بات ہے۔بکری کے سر پر اگر شیر ہو تو اس کو حلال کھانا بھی بھول جاتا ہے چہ جائیکہ وہ کسی دوسرے کے کھیت میں جائے۔اسی طرح پر اگر خدا تعالیٰ کا خوف ہو تو ممکن نہیں کہ گناہ کرے۔" فرماتے ہیں کہ اصل جڑا اور مقصود تقویٰ ہے۔جسے وہ عطا ہو تو سب کچھ پاسکتا ہے۔بغیر اس کے ممکن نہیں ہے کہ انسان صغائر اور کبائر سے بچ سکے۔" بڑے گناہوں سے، چھوٹے گناہوں سے بچ سکے۔فرمایا کہ "انسانی حکومتوں کے احکام گناہوں سے نہیں بچاسکتے۔حکام ساتھ ساتھ تو نہیں پھرتے کہ ان کو خوف رہے۔"لوگوں کو ان کا خوف رہے " انسان اپنے آپ کو اکیلا خیال کر کے گناہ کرتا ہے ورنہ وہ کبھی نہ کرے اور جب وہ اپنے آپ کو اکیلا سمجھتا ہے اُس وقت وہ دہر یہ ہوتا ہے۔جب اکیلا سمجھتا ہے تو ظاہر ہے وہ سمجھتا ہے کہ خدا مجھے نہیں دیکھ رہا تو مطلب یہ ہے کہ اس وقت وہ دہر یہ ہو تا اور یہ خیال نہیں کرتا کہ میر اخدا میرے ساتھ ہے۔وہ مجھے دیکھتا ہے۔ورنہ اگر وہ یہ سمجھتا تو کبھی گناہ نہ کرتا۔" فرماتے ہیں " تقویٰ سے سب شئے ہے۔"ہر چیز تقویٰ پر ہی منحصر ہے " قرآن نے ابتدا اسی سے کی ہے۔إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ (الفاتحه: 5) سے مراد بھی تقویٰ ہے کہ انسان اگر چہ عمل کرتا ہے مگر خوف سے جرات نہیں کرتا کہ اسے اپنی طرف منسوب کرے اور اسے خدا کی استعانت سے خیال کرتا ہے اور پھر اسی سے آئندہ کے لئے استعانت طلب کرتا ہے۔" إِيَّاكَ نَعْبُدُ انسان کہتا ہے۔تیری عبادت کرتے ہیں۔انسان خود عبادت کر رہا ہے، عمل کر رہا ہے لیکن اس کو اپنی طرف منسوب نہیں کرتا۔آپ نے فرمایا کہ باوجود اس کے کہ وہ عمل کر رہا ہے اور اِيَّاكَ نَسْتَعِین کہہ دیتا ہے کہ یہ عبادت جو ہے یہ بھی تیری مدد کی وجہ سے ہی ہو رہی ہے۔تو توفیق دے رہا ہے تو عبادت ہو رہی ہے ورنہ یہ عبادت نہیں ہو سکتی۔اور پھر آئندہ کے لئے بھی مدد طلب کرتا ہے کہ آئندہ بھی اللہ تعالی توفیق دے کہ عبادت کی توفیق ملتی رہے۔پس یہ ہے تقویٰ کا معیار۔پھر فرمایا کہ " دوسری سورت بھی هُدًى لِلْمُتَّقِينَ (البقرة: 3) سے شروع ہوتی ہے۔" آپ فرماتے ہیں کہ " نماز ، روزہ زکوۃ وغیرہ سب اسی وقت قبول ہوتا ہے جب انسان متقی ہو۔" پس تقویٰ ہو گا تو یہ چیزیں قبول ہوں گی۔اگر تقویٰ نہیں تو یہ چیزیں بھی قابل قبول نہیں۔آپ فرماتے ہیں کہ " اس وقت خدا تمام داعی گناہ کے اٹھا دیتا ہے۔" یعنی انسان کو گناہ کی ترغیب دینے والی جو بھی چیزیں ہیں اگر تقویٰ کا مل ہو تو گناہ کی ترغیب دینے والی، گناہ