خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 255
خطبات مسرور جلد 15 آنے والے ہیں۔255 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 02 جون 2017 پس ایسے وقت میں جب ہم ظلم و بربریت کے یہ واقعات سنتے اور دیکھتے ہیں تو ہم احمدیوں کو پہلے سے بڑھ کر استغفار کرتے ہوئے، اللہ تعالیٰ کی حمد کرتے ہوئے کہ اس نے ہمیں ان ظالم لوگوں سے علیحدہ کر کے حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کو ماننے کی توفیق عطا فرمائی، اپنے اپنے عملوں پر نظر رکھنی چاہئے ، اپنے ایمان کی مضبوطی کی فکر کرنی چاہئے۔اس بات پہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہیئے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمیں وہ راستے دکھائے جو خدا تعالیٰ سے ملانے کے راستے ہیں۔آپ نے فرمایا کہ ایمان کی جڑ تقویٰ اور طہارت ہے۔فرمایا کہ اسی سے ایمان شروع ہو تا ہے اور اسی سے اس کی آبپاشی ہوتی ہے اور نفسانی جذبات دبتے ہیں۔(ماخوذ از ملفوظات جلد 4 صفحہ 243) پس آپ کے اس ارشاد سے یہ بات مزید کھل گئی کہ ایمان بغیر تقویٰ کے پیدا ہی نہیں ہو سکتا اور نہ صرف یہ کہ ایمان کی جڑ تقویٰ ہے بلکہ ایمان کی حفاظت اور پرورش بھی تقویٰ کے بغیر نہیں ہو سکتی۔تقویٰ ہو گا تو اعمال نیک ہوں گے اور اعمال نیک ہوں گے اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے مطابق ہوں گے تو ایمان میں ترقی پیدا ہو گی۔اس سے یہ بھی واضح ہو گیا کہ رمضان کی فضیلت کے پھل بھی تقویٰ میں بڑھے بغیر حاصل نہیں ہو سکتے۔تقویٰ بڑھے گا تو ایمان بڑھے گا، محاسبہ کی طرف توجہ ہو گی۔اور جب محاسبہ کی طرف توجہ ہو گی، اپنا جائزہ انسان لے گا تو نفسانی جذبات بھی پھر دیں گے۔اور جیسا کہ پہلے ذکر ہو چکا ہے نفسانی جذبات کا دبنا ہی اللہ تعالیٰ کے احکام پر عمل کرتے ہوئے اس کا قرب دلاتا ہے۔اصل تقویٰ کی حقیقت کو مزید بیان فرماتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ: " اصل تقویٰ جس سے انسان دھویا جاتا ہے اور صاف ہوتا ہے اور جس کے لئے انبیاء آتے ہیں وہ دنیا سے اٹھ گیا ہے۔کوئی ہو گا جو قَد أَفْلَحَ مَنْ زَكهَا (الشمس: 10) کا مصداق ہو گا۔پاکیزگی اور طہارت عمدہ شئے ہے۔انسان پاک اور مطہر ہو تو فرشتے اس سے مصافحہ کرتے ہیں۔لوگوں میں اس کی قدر نہیں ہے ورنہ ان کی لذات کی ہر ایک شئے حلال ذرائع سے ان کو ملے۔" اگر لوگوں میں تقویٰ کی قدر ہو تو جو بھی دنیاوی لذات ہیں آپ نے فرمایا کہ وہ بھی تمہیں حلال ذریعے سے ملیں نہ کہ حرام ذریعہ سے ، ناجائز ذریعہ سے۔فرمایا کہ "چور چوری کرتا ہے کہ مال ملے لیکن اگر وہ صبر کرے تو خدا تعالیٰ اسے اور راہ سے مالدار کر دے۔اسی طرح زانی زنا کرتا ہے اگر صبر کرے تو خدا تعالیٰ اس کی خواہش کو اور راہ سے پوری کر دے جس میں اس کی رضا حاصل ہو"۔آپ فرماتے ہیں کہ "حدیث میں ہے کہ کوئی چور چوری نہیں کرتا مگر اس حالت میں کہ وہ مومن نہیں ہوتا اور