خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 254
خطبات مسرور جلد 15 254 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 02 جون 2017 گناہوں کی معافی مانگنی چاہئے اور پھر اس رمضان کی عبادتوں کو اور اس میں تبدیلیوں کو آئندہ زندگی کا مستقل حصہ بنا لینا چاہئے۔اور اس میں جو گناہ معاف ہوئے یا جنت کے دروازے کھولے گئے تو پھر ہمیشہ کوشش کرنی چاہئے کہ یہ کھلے رہیں۔اور رمضان کے فیوض سے حصہ لینے کے لئے نہایت عاجزی سے اللہ تعالیٰ کے حضور جھکتے ہوئے ہمیں کوشش کرنی چاہئے۔اللہ کرے کہ ہم اس کے فیض پاتے چلے جائیں۔اور اللہ تعالیٰ نے ہمارے سامنے روزوں کا جو مقصد رکھا ہے کہ تقویٰ حاصل ہو اس کے بھی معیار حاصل کرنے کی ہمیں کوشش کرنی چاہئے۔تقویٰ میں ترقی کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے مختلف ذریعہ سے ہمیں جو سمجھایا ہے اس بارے میں بھی آپ کے حوالے سے بعض باتیں پیش کرتا ہوں۔انسان کی ایمانی حالت بھی اس وقت ترقی کرتی ہے جب تقویٰ میں ترقی ہو۔پس جیسا کہ پہلے ذکر آچکا ہے کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا کہ ایمان کی حالت اور محاسبہ کرتے ہوئے رمضان گزارو تو اس کا مطلب ہی یہ ہے کہ تقویٰ میں ترقی کرتے ہوئے، اپنی حالتوں کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے تابع کرتے ہوئے یہ دن گزار و اور اگر اس میں سے کامیاب گزر گئے تو پھر تقویٰ زندگی کا مستقل حصہ بن جائے گا۔اپنی عملی حالتوں کو انسان صرف رمضان میں ہی درست نہیں کرے گا بلکہ یہ فیض جاری فیض ہو گا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمیں اس طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا کہ قرآن اور اسلام کی تعلیم کا مقصد تو تقویٰ پیدا کرنا تھا وہی ہمیں آج نظر نہیں آتا۔روزے رکھتے ہیں، نمازیں پڑھتے ہیں لیکن تقویٰ سے عاری ہونے کی وجہ سے یہی نمازیں اور روزے انہیں گناہگار بنارہے ہیں۔یہ اسلام کے نام پر جو آجکل ہم دیکھتے ہیں کہ دہشت گردی ہو رہی ہے۔معصوموں کو قتل کیا جا رہا ہے۔یہ اس لئے ہے کہ تقویٰ نہیں رہا۔ہر روز کچھ نہ کچھ ہوتا ہے۔مسلمانوں کی طرف سے ہوتا ہے۔دو دن پہلے افغانستان میں بھی بڑے ظالمانہ طور پر سو کے قریب لوگوں کو قتل کر دیا گیا۔کیا ان لوگوں کو رمضان کوئی فائدہ دے گا یا یہ رمضان کی فضیلت حاصل کرنے والے ہوں گے ؟ اس سے فیض پانے والے ہوں گے ؟ یقینا نہیں کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کے حکموں کے خلاف کرنے والے لوگ ہیں۔یہ اللہ تعالیٰ کے احکام سے دُور ہٹ رہے ہیں اور یہ تقویٰ سے دُور ہیں۔اسی لئے اور عین قرآنی تعلیم کے مطابق ہی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ فرمایا ہے کہ بغیر تقویٰ کے نمازیں بھی بے فائدہ اور دوزخ کی کلید ہیں۔دوزخ کی چابی ہیں۔اس کی طرف لے جانے والی ہیں۔(ماخوذ از ملفوظات جلد 4 صفحہ 48) پس ایسے لوگوں کو رمضان کس طرح فائدہ دے سکتا ہے جو تقویٰ سے عاری ہیں۔جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے نام پر ظلم کرتے ہیں وہ کبھی رمضان سے فیض اٹھانے والے نہیں ہو سکتے بلکہ اللہ تعالیٰ کی پکڑ میں ا