خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 253
خطبات مسرور جلد 15 253 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 02 جون 2017 "دوسری قسم ایمان باللہ کی یہ ہے کہ عملی شہادتیں اس کے ساتھ ہوں۔پس جب تک یہ دوسری قسم کا ایمان پیدانہ ہو میں نہیں کہہ سکتا کہ ایک آدمی خدا کو مانتا ہے۔یہ بات میری سمجھ میں نہیں آتی کہ ایک شخص اللہ تعالیٰ کو مانتا بھی ہو اور پھر گناہ بھی کرتا ہو۔دنیا کا بہت بڑا حصہ پہلی قسم کے ماننے والوں کا ہے۔" آپ فرماتے ہیں کہ "میں جانتا ہوں کہ وہ لوگ اقرار کرتے ہیں کہ ہم خدا کو مانتے ہیں مگر یہ دیکھتا ہوں کہ اس اقرار کے ساتھ ہی وہ دنیا کی نجاستوں میں مبتلا اور گناہ کی کدورتوں سے آلودہ ہیں۔" فرمایا " پھر وہ کیا بات ہے کہ وہ خاصہ جو ایمان باللہ کا ہے اس کو حاضر ناظر مان کر پیدا نہیں ہو تا؟" فرمایا " دیکھو انسان ایک ادنیٰ درجہ کے چوہڑے چمار کو حاضر ناظر دیکھ کر اس کی چیز نہیں اٹھاتا۔پھر اس خدا کی مخالفت اور اس کے احکام کی خلاف ورزی میں دلیری اور جرآت کیوں کرتا ہے جس کی بابت کہتا ہے " کہ " مجھے اس کا اقرار ہے" میں اس پہ ایمان لاتا ہوں فرمایا میں اس بات کو مانتا ہوں کہ دنیا کے اکثر لوگ ہیں جو اپنی زبان سے اقرار کرتے ہیں کہ ہم خدا کو مانتے ہیں۔کوئی پر میشر کہتا ہے کوئی گاڈ کہتا ہے کوئی اور نام رکھتا ہے۔مگر جب عملی پہلو سے ان کے اس ایمان اور اقرار کا امتحان لیا جاوے اور دیکھا جاوے تو کہنا پڑے گا کہ وہ نراد عومی ہے جس کے ساتھ عملی شہادت کوئی نہیں۔" فرمایا کہ " انسان کی فطرت میں یہ امر واقعہ ہے کہ وہ جس چیز پر یقین لاتا ہے اس کے نقصان سے بچنے اور اس کے منافعہ کو لینا چاہتا ہے۔دیکھو۔سنکھیا ایک زہر ہے اور انسان جبکہ اس بات کا علم رکھتا ہے کہ اس کی ایک رتی بھی ہلاک کرنے کو کافی ہے تو کبھی وہ اس کو کھانے کے لئے دلیری نہیں کرتا اس لئے کہ وہ جانتا ہے " کہ " اس کا کھانا ہلاک ہونا ہے۔پھر کیوں وہ خدا تعالیٰ کو مان کر ان نتائج کو پیدا نہیں کرتا جو ایمان باللہ کے ہیں۔" فرمایا اگر سنکھیا کے برابر بھی اللہ تعالیٰ پر ایمان ہو تو اس کے جذبات اور جوشوں پر موت وارد ہو جاوے۔مگر نہیں۔یہ کہنا پڑے گا کہ نرا قول ہی قول ہے۔ایمان کو یقین کا رنگ نہیں دیا گیا ہے۔یہ اپنے نفس کو دھوکا دیتا ہے " ایمان جب ہو تو اس پر یقین کامل ہونا چاہئے ، اس کو یقین کا رنگ ملنا چاہئے کیونکہ وہ یقین کا رنگ نہیں ہے اس لئے فرمایا کہ نفس کو دھوکا دیتا ہے " اور دھوکا کھاتا ہے جو کہتا ہے کہ میں خدا کو مانتا ہوں۔" فرماتے ہیں کہ " پس پہلا فرض انسان کا یہ ہے کہ وہ اپنے اس ایمان کو درست کرے جو وہ اللہ پر رکھتا ہے یعنی اس کو اپنے اعمال سے ثابت کر دکھائے کہ کوئی فعل ایسا اس سے سرزد نہ ہو جو اللہ تعالیٰ کی شان اور اس کے احکام کے خلاف ہو۔" ( ملفوظات جلد 4 صفحہ 312-313) پس یہ ہے ایک مومن کا محاسبہ کا طریق۔رمضان کے مہینے میں ایک خاص ماحول بنا ہو تا ہے اور دوسروں کی دیکھا دیکھی بھی عبادتوں اور نیکیوں کی طرف توجہ پیدا ہو رہی ہوتی ہے۔ایسے ماحول میں عبادتوں اور نیکیوں کی طرف توجہ کرتے ہوئے ، اپنے اعمال کی طرف توجہ کرتے ہوئے، ہمیں اپنے خدا کے آگے جھکتے ہوئے گزشتہ