خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 252
خطبات مسرور جلد 15 252 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 02 جون 2017 صفت رحیمیت کی ہے اس کے ظاہر ہونے سے ہوتی ہے۔ایسا تعلق خدا تعالیٰ سے پیدا کرنے سے ہو گی جس میں خدا تعالیٰ کی رحیمیت اور فضل اور قدرت کی صفات ہمارے تجربے میں آئیں گی۔اور یہ باتیں اس وقت تجربے میں آسکتی ہیں جب خدا کی عبادت اور اس سے تعلق کا غیر معمولی اظہار ہو رہا ہو۔آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی رحیمیت اور فضل اور قدرت کی صفات جب تجربے میں آتی ہیں تو پھر وہ نفسانی جذبات سے چھڑاتی ہیں اور نفسانی جذبات کمزوری ایمان اور کمزوری یقین کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں۔اگر ایمان کمزور نہ ہو، اللہ تعالیٰ پر یقین کامل ہو تو نفسانی جذبات پیدا نہیں ہوتے۔آپ نے فرمایا کہ اس دنیا کی آسائشیں، اس کی املاک، اس کی دولتیں جس قدر انسان کو پیاری ہیں اتنی اخروی زندگی کی نعمتیں اسے پیاری نہیں۔(ماخوذ از ایام الصلح۔روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 244-245) کہنے کو تو انسان کہتا ہے کہ مجھے آخری زندگی کی نعمتیں پیاری ہیں۔کیونکہ اگر اخروی زندگی کی نعمتیں بھی اتنی ہی پیاری ہو تیں تو پھر ان کو حاصل کرنے کے لئے بھی اتنی ہی کوشش ہوتی جتنی ان دنیاوی چیزوں کے حاصل کرنے کے لئے ہوتی ہے بلکہ اس سے بڑھ کر ہوتی۔پس واضح ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت اور رحیمیت اور وعدوں پر حقیقی ایمان نہیں ہے اور اس بات کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔پس اس وضاحت کے بعد ہی یہ بات اچھی طرح سمجھ آسکتی ہے کہ یہ ایمان کوئی معمولی بات نہیں ہے۔یہ بہت بڑی چیز ہے۔ایک بہت بڑا ٹارگٹ ہے جو ہمیں دیا گیا ہے۔صرف تیس دن کے روزے رکھنے کے لئے یا رمضان کا مہینہ آنے کے لئے تیاریاں نہیں ہو تیں، نہ ان کی کوئی اہمیت ہے۔یہ اہمیت تبھی بڑھتی ہے جب اس مہینے کی ٹریننگ سے ہماری یہ ساری کوششیں سارے سال کے عملوں پر منتج ہو جائیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دو فقروں میں ہمارے سامنے پوری زندگی کا لائحہ عمل رکھ دیا۔ہمارے منہ سے کہہ دینے سے کہ ہم ایمان کی حالت میں روزے رکھ رہے ہیں اس لئے ہمارے سارے گناہ بخشے جائیں گے کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دیا، یہ کافی نہیں۔جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنا محاسبہ کرتے ہوئے روزے رکھے تو اس کا یہی مطلب ہے کہ اپنے ایمان کو اس کسوٹی پر رکھ کر پر کھنا ہو گا جو اللہ تعالیٰ سے تعلق بڑھانے کی کسوٹی ہے۔اس کے حکموں پر عمل کرنے کی کسوٹی ہے۔پس یہ دیکھنا ہے کہ ہم اس پر عمل کر رہے ہیں یا نہیں۔ایمان کی حالت اور اسے درست کرنے کا طریق بیان فرماتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک جگہ فرماتے ہیں کہ : " بات یہ ہے کہ خدا تعالیٰ پر ایمان دو قسم کا ہے۔ایک وہ ایمان ہے جو صرف زبان تک محدود ہے اور اس کا اثر افعال اور اعمال پر کچھ نہیں۔" زبان تک ایمان ہے۔اپنے عملوں سے کوئی ایمان ظاہر نہیں ہو رہا ہو تا۔