خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 251 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 251

خطبات مسرور جلد 15 251 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 02 جون 2017 لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو دوسری حدیث ہے اس میں واضح طور پر فرما دیا کہ ایمان کی حالت میں روزہ رکھنے اور اپنے نفس کا محاسبہ کرتے ہوئے اپنے روز و شب رمضان میں گزارنے سے ہی یہ مقام ملتا ہے اور جب یہ حالت ہو گی تو تبھی گزشتہ گناہ بھی معاف ہوتے ہیں۔انسان ایمان میں ترقی کرتا ہے۔اپنے نفس کا محاسبہ کرتا ہے۔اپنی کمزوریوں کو دیکھتا ہے۔اپنے اعمال کو دیکھتا ہے۔حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی پر غور کرتا ہے۔اپنے عملوں کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے مطابق کرنے کی کوشش کرتا ہے۔تو تبھی گناہوں کی معافی بھی ہوتی ہے۔اور یہی مقصد اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بھی رمضان کے روزوں سے حاصل کرنے کا بیان فرمایا ہے۔اس آیت میں جو میں نے تلاوت کی ہے کہ تم پر روزے اس لئے فرض کئے گئے ہیں، رمضان کا مہینہ ہر سال اس لئے مقرر کیا گیا ہے تا کہ تم تقویٰ اختیار کرو۔اور تقویٰ یہی ہے کہ ہر کام خدا تعالیٰ کی رضا کے لئے ہو تبھی تم روزوں سے فیضیاب ہو سکتے ہو اور شیطانی حملوں سے بچ سکتے ہو۔جب خالص ہو کر اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرتے ہوئے روزے رکھو گے تو اللہ تعالی کی پناہ میں آؤ گے اور جب انسان اللہ تعالی کی پناہ میں آئے تو تبھی شیطان سے بچ سکتا ہے ورنہ شیطان کا یہ کھلا چیلنج ہے کہ ذرا انسان اللہ تعالیٰ کی پناہ سے دُور ہوا تو فوراً اسے شیطان نے دبوچا، اپنے قابو میں کر لیا۔پس ایمان میں ترقی اور نفس کا محاسبہ ہی انسان کو اللہ تعالیٰ کی پناہ کا مورد بناتا ہے اور یہ تبھی ہو سکتا ہے جب انسان تقویٰ پر چلنے والا ہو۔ایمان کی حالت اور معیار اور تقویٰ کی حالت اور معیار کیا ہونے چاہئیں اور یہ کس طرح حاصل ہو سکتے ہیں؟ اس کے بارے میں ہمیں وہی صحیح بتا سکتا ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے اس کام پر مامور کیا ہو اور یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام صادق اور زمانے کے امام کے ذریعہ سے ہی پتا چل سکتا ہے کہ آپ علیہ السلام کو ہی اللہ تعالیٰ نے اس کام کے لئے بھیجا ہے۔آپ ہی ہیں جنہوں نے ایمان کو دوبارہ زمین پر لا کر دلوں میں تقویٰ پیدا کرنے اور قائم کرنے کے اُسلوب سکھانے تھے۔چنانچہ ہم دیکھتے ہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب آپ کی مختلف مجالس میں باتیں، آپ کے ارشادات مختلف زاویوں سے اس طرف رہنمائی کرتے ہیں۔جیسا کہ حدیث میں آیا ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے روزے ایمان کی حالت میں رکھے ، اپنا محاسبہ کرتے ہوئے رکھے ، اس کے گناہ معاف کر دیئے جائیں گے۔یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمیں بتایا کہ ایمان کی حالت اُس وقت تک نہیں ہو سکتی جب تک کہ خدا تعالیٰ کی پہچان نہ ہو۔آپ نے فرمایا کہ بھاری مرحلہ جو ہم نے طے کرنا ہے وہ خداشناسی ہے۔اس کو پہچاننا ہے اور اگر ہماری خداشناسی ہی ناقص اور مشتبہ اور دھندلی ہے تو ہمارا ایمان ہر گز منور اور چمکیلا نہیں ہو سکتا۔اور خداشناسی کس طرح ہو گی ؟ یہ اللہ تعالیٰ کی صفت رحیمیت کے جلوے سے ہو گی۔خدا کی پہچان اللہ تعالیٰ کی جو