خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 248
خطبات مسرور جلد 15 248 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 26 مئی 2017 حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پڑ پوتے تھے۔اپنے خاندان کے ساتھ 1990ء میں ہجرت کر کے جرمنی آئے اور وہاں بھی جماعتی خدمات میں نمایاں رہے۔وہاں لوکل سیکرٹری تبلیغ رہے۔قائد مجلس رہے۔خدام الاحمدیہ جرمنی کے معتمد ر ہے۔اس کے علاوہ ریجنل امارت میں بطور سیکرٹری امور عامہ بھی خدمت کی توفیق پائی۔پھر بوسنیا کا جو ( پہلا ) جلسہ تھا اس جلسہ میں جرمنی کے نمائندہ کی حیثیت سے شامل ہوئے۔کھیلوں کا بھی بڑا شوق تھا۔تبلیغی سٹال بڑے شوق سے اور توجہ سے لگاتے تھے۔کبھی کوئی معاون میسر نہ آتا تو خود ہی اکیلے سٹال کے لئے نکل جاتے۔2009ء میں جرمنی سے یو۔کے آگئے اور یہاں آکر ریجنل ناظم تعلیم اطفال کی حیثیت سے خدمت کی۔اور پھر بڑی اعلیٰ پوزیشن بھی حاصل کر لی۔اپنی مجلس کے اطفال کو بڑی ترقی دی۔تبلیغ کا شوق بھی جیسا کہ میں نے کہا بہت تھا۔خدام الاحمدیہ میں بھی اور انصار اللہ میں بھی مختلف عہدوں کی حیثیت سے خدمت بجالانے کی توفیق ملی۔دفتر پرائیویٹ سیکرٹری میں مستقل طور پر یہ رضا کارانہ کام کرتے تھے اور ہماری کافی ڈاک نکالنے میں مدد کیا کرتے تھے۔اس کے علاوہ خادم کی حیثیت سے سیکیورٹی ڈیوٹی بھی دیتے تھے۔بلکہ میں تو بعض دفعہ سمجھتا تھا کہ شاید یہ کوئی اور کام کرتے ہی نہیں۔سارا دن یہیں مسجد کے قریب ہی رہتے ہیں۔لیکن اپنا پرائیویٹ کام بھی کرتے تھے اور اس میں سے وقت نکالتے تھے اور کئی کئی گھنٹے دفتر پرائیویٹ سیکر ٹری کو اور اسی طرح خدام کی ڈیوٹیوں کو بھی دیا کرتے تھے۔مرحوم موصی تھے۔اپنے پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ ایک بیٹی اور چار بیٹے چھوڑے ہیں۔ان کے والد بھی حیات ہیں۔بھائی ہیں۔ان کے والد سلیمان اختر صاحب لکھتے ہیں کہ میرابیٹا بہت ہی فرمانبردار تھا۔بچپن سے ہی جماعتی کاموں میں مشغول رہا۔ہر وقت اس کے دل میں دین کی خدمت کا جذبہ موجزن رہتا تھا۔خدمت کا کوئی موقع اسے میسر آیا تو اس نے اس سے بھر پور فائدہ اٹھایا۔بچوں کو نماز با جماعت کے لئے مسجد میں لے جاتے۔حتی کہ بیماری کے ایام میں بھی ذرا طبیعت سنبھلتی تو اس طریق پر عمل کرتے اور آخر میں اپنی بیماری سے بڑی ہمت سے انہوں نے بڑا مقابلہ کیا اور گھر بیٹھ کے بھی سیکرٹری وقف نو کی حیثیت سے اپنے کام سر انجام دیتے رہے۔ان کی اہلیہ نے بھی یہی لکھا ہے کہ بچوں کے ساتھ دوستوں کا تعلق تھا اور ان کی تربیت کا ہر وقت خیال رہتا۔اور پھر یہ کہ ہماری شادی کو پندرہ سال ہو رہے ہیں لیکن آج تک کبھی اونچی آواز سے انہوں نے بات نہیں کی۔یہاں یو کے کے مہتمم مقامی لکھتے ہیں کہ خلافت احمد یہ اور نظام جماعت سے جنون کی حد تک عشق تھا۔ہمیشہ جماعتی مفاد کو پہلے رکھتے تھے۔دو تین دفعہ یہ بیماری کی وجہ سے ہسپتال داخل رہے ہیں لیکن جب ذراسی طبیعت بہتر ہوتی تھی فوراً اپنے کام پر آجایا کرتے تھے۔بعض دفعہ احساس بھی نہیں ہو تا تھا کہ بیمار ہیں۔آخری بیماری میں یہی اظہار تھا کہ مجھے اس بات کا افسوس ہے کہ مسجد میں جا کر نمازیں نہیں پڑھ سکتا۔ان کے ایک دوست لکھتے ہیں کہ