خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 249
خطبات مسرور جلد 15 249 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 26 مئی 2017 ٹیکسی کرتے تھے۔میرے ساتھ ٹیکسی سٹینڈ پر ان کا پہلا نمبر تھا اور میرا ان کے بعد میں تھا کہ نماز کا وقت ہو ا تو یہ چلے گئے اور میں اس لئے کہ کوئی سواری آجائے گی وہاں کھڑارہا۔لیکن ہوا یہ کہ یہ نماز پڑھ کے واپس بھی آگئے اور پھر سواری انہی کو پہلے ملی اور مجھے نہیں ملی۔اس کے بعد سے مجھے بھی سبق ملا کہ اپنے دنیاوی کاموں کو دین کے لئے قربان کرنا چاہئے۔عبادت جو ہے اللہ تعالیٰ کا فرض جو ہے اس کو بہر حال پہلے ادا کرنا چاہئے۔اس لحاظ سے یہ اپنے ساتھیوں کی بڑی خاموش تربیت بھی کر دیا کرتے تھے۔ہر ایک کے کام آنا ان کا خاص وصف تھا۔ان کے ایک دوست لکھتے ہیں رات دو بجے بھی کوئی کام ہو تا تو فوراً کہتے کہ میں کر دوں گا۔عطاء المجیب راشد صاحب لکھتے ہیں کہ تبلیغی سٹال پر بڑی باقاعدگی سے جاتے تھے اور بڑے ہنستے مسکراتے تھے۔سب کو سلام کر کے یہ کام کرتے۔بلکہ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ ان کے کسی دوست سے ان کا حال پوچھا تو انہوں نے کہا کہ آج ان کی طبیعت ذرا بہتر تھی اس لئے وہ تبلیغ کرنے کے لئے نکل گئے ہیں۔اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند کرے۔رحم اور مغفرت کا سلوک فرمائے اور ان کے بچوں کو بھی نیک صالح بنائے اور خلافت سے ہمیشہ وابستہ رکھے۔جیسا کہ میں نے کہا نماز کے بعد حاضر جنازہ ہے۔میں باہر جاکر نماز جنازہ ادا کروں گا اور آپ لوگ یہیں مسجد میں صفیں بنالیں۔الفضل انٹر نیشنل مورخہ 16 جون 2017 ء تا 22 جون 2017ء جلد 24 شمارہ 24 صفحہ 05 تا09)