خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 247
خطبات مسرور جلد 15 247 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 26 مئی 2017 اپنی قدرت کا نمونہ دکھایا اور اسلام کو نابود ہوتے ہوتے تھام لیا اور اس وعدہ کو پورا کیا جو فرمایا تھا وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْ تَطَى لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ آمَنَّا (النور: 56)۔یعنی خوف کے بعد پھر ہم ان کے پیر جمادیں گے۔" (رسالہ الوصیت۔روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 304-305) اللہ تعالیٰ کا یہ بڑا احسان ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے وصال کے بعد ایک جھٹکا تو جماعت کو لگا لیکن اللہ تعالیٰ نے حضرت خلیفہ المسیح الاول کے ذریعہ جماعت کو فورا سنبھال لیا۔اگر کسی کی کوئی نیت شرارت کی تھی بھی تو وہ جلد ہی قابو میں آگئے۔پھر حضرت خلیفتہ المسیح الاول کے وصال کے بعد جماعت کو ایک بڑا جھٹکالگا اور جماعت کے بعض سر کردہ جماعت مبائعین سے علیحدہ بھی ہو گئے ، خلافت کے انکاری بھی ہو گئے اور کافی سخت حالات تھے۔ایک لمبی تفصیل ہے۔لیکن نتیجہ کیا ہوا؟ آخر میں خلافت ہی کامیاب ہوئی اور کامیابیوں کی راہوں پر چلتی چلی گئی اور منزلیں طے کرتی چلی گئی۔پھر خلافت ثالثہ میں جیسا کہ میں نے ذکر کیا سختیوں کے دور آئے لیکن اس کے باوجود اللہ تعالیٰ نے فضل فرمایا۔حکومت کے خوفناک منصوبے تھے لیکن جماعت کی ترقی میں کوئی روک نہیں پیدا ہو سکی۔خلافت رابعہ میں مزید سختی پاکستان کی حکومت نے دکھائی تو اس ابتلا میں بھی اللہ تعالیٰ نے تسکین کے سامان پید افرما دیئے۔جماعت نئی منزلیں طے کرنے لگی۔تبلیغ کے نئے نئے راستے کھلنے لگے اور پھر سیٹلائٹ کے ذریعہ سے دنیا میں تبلیغ جانے لگی۔پھر خلافت خامسہ میں بھی نئے راستوں میں مزید وسعت پیدا ہوئی۔جماعت کا پیغام ہزاروں سے نکل کر ، بلکہ لاکھوں سے نکل کر کروڑوں میں جانے لگ گیا۔ایک ملک یادو ملکوں کی بجائے کئی ملکوں میں اب مخالفت شروع ہو گئی ہے اور یہی احمدیت کی سچائی کی دلیل ہے اور یہی ترقی کی نشانی بھی ہے۔احمدیت سے پیچھے ہٹانے کی کوششیں ہو رہی ہیں لیکن اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کے موافق ترقی کی راہیں کھولتا چلا جارہا ہے اور ترقی ہوتی چلی جارہی ہے اور یہ سب باتیں ظاہر کرتی ہیں کہ عارضی روکوں کے باوجو د اسلام کا غلبہ انشاء اللہ تعالیٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ اور آپ کے بعد جاری نظام خلافت کے ذریعہ ہی ہونا ہے۔مخالفین چاہیں جتنا مرضی زور لگالیں ان کے حصہ میں نامرادی اور ناکامی ہی ہے۔اللہ تعالیٰ ہر ایک کو توفیق دے کہ وہ اپنے ایمان میں بھی مضبوط ہو اور اعمال صالحہ بجالانے والا بھی ہو اور عبادتوں کے معیار بھی ہر احمدی کے بلند ہوتے چلے جائیں تاکہ ہم ہمیشہ اس ترقی کا حصہ بننے والے رہیں۔نماز جمعہ کے بعد میں ایک جنازہ حاضر بھی پڑھاؤں گا ( جنازہ آگیا ہے ناں؟) جو چوہدری حمید احمد صاحب ابن چوہدری محمد سلیمان اختر صاحب کا ہے۔یہ پچھلے سات آٹھ سال سے یہیں رہتے تھے۔20 مئی 2017ء کو بیالیس سال کی عمر میں کینسر سے وفات ہو گئی۔اِنَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔آپ حضرت چوہدری مولا بخش صاحب صحابی