خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 241
خطبات مسرور جلد 15 241 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 26 مئی 2017 لوگوں میں سے کچھ لوگ اسے واپس لے کر آئیں گے۔(صحيح البخارى كتاب تفسير القرآن باب وآخرين منهم لما يلحقوا بهم الخ حديث 4897) اور آخرین کے مقام کے بارے میں ایک موقع پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری اُمت ایک مبارک اُمت ہے۔یہ نہیں معلوم ہو گا کہ اس کا اول زمانہ بہتر ہے یا آخری زمانہ۔(کنز العمال جلد 6 جزء 12 صفحه 71 حدیث 34446 باب فى فضائل هذه الامة المرحومة مطبوعه دار الكتب العلمية بيروت 2004ء) پس آخری زمانے کی بہتری کی خوشخبری بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دی ہے۔کیا یہ آخری زمانہ ان علماء اور بادشاہوں کے پیچھے چلنے سے پہلوں والی برکات حاصل کرنے کا حامل بنائے گا ؟ یقینا نہیں۔یہ لوگ تو دنیا دار ہیں۔یہ اس شخص کے پیچھے چلنے سے ملے گا جو ایمان کو واپس دنیا میں لائے گا اور آج ایمان کو دنیا میں قائم کرنے کی کوشش آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عاشق صادق کے ذریعہ جاری نظام کے علاوہ کون ہے جو کر رہا ہے۔جو امن ، پیار اور محبت کے ساتھ اسلام کا پیغام دنیا میں پھیلا رہا ہے۔ایمانوں کو دنیا میں قائم کرنے کے لئے کوشش کر رہا ہے۔کفر و الحاد کے اس دور میں یہی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت کا کام ہے جسے ہمیں کرنا چاہئے اور کر رہے ہیں۔بیشمار واقعات ہیں جو میرے ساتھ بھی اور دوسرے لوگوں کے ساتھ بھی ہوتے ہیں۔پیس کا نفرنسز ہوتی ہیں۔جلسے ہوتے ہیں۔ہمارے جلسوں میں آتے ہیں۔جب ہم اپنا پیغام ، اسلام کا حقیقی پیغام بتاتے ہیں تو غیر بھی، عیسائی بھی، لامذہب بھی یہی کہتے ہیں کہ یہ وہ اصل پیغام ہے، یہ وہ اسلام ہے جس کی دنیا کو پہنچانے کی ضرورت ہے اور اگر یہ اسلام تم لوگ پھیلاؤ تو کسی کو قبول کرنے میں کوئی روک نہیں ہو گی۔پس یہ کام ہے جو ہم نے کرنا ہے۔تجدید دین اور ایمان کو قائم کرنے کے لئے اس زمانے میں مسیح موعود اور مہدی معہود کے ساتھ ہی جڑنا ہو گا جو خاتم الخلفاء بھی ہے۔آخرین کے پہلوں کے ساتھ جڑنے کے متعلق ایک جگہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: " اس آیت کا ماحصل یہ ہے کہ خداوہ خدا ہے جس نے ایسے وقت میں رسول بھیجا کہ لوگ علم اور حکمت سے بے بہرہ ہو چکے تھے اور علوم حکمیہ دینیہ جن سے تکمیل نفس ہو اور نفوس انسانیہ علمی اور عملی کمال کو پہنچیں بالکل گم ہو گئی تھی۔لوگ دین کو بالکل بھول چکے تھے۔دین کی جو حکمت کی تعلیم ہے وہ بالکل ختم ہو چکی تھی اور اس کو کمال تک پہنچانے کے لئے ، دین کی حکمت، دین کے علم کی حکمت کو کمال تک پہنچانے کے لئے اور انسانی نفس کی اصلاح کے لئے علمی اور عملی حالتوں کو بہتر کرنے کے لئے ایک زمانہ تھا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ تھا جس کے لئے آپ آئے کیونکہ یہ زمانہ تھا جب یہ سب باتیں بالکل ختم ہو چکی تھیں، گم ہو گئی تھیں فرمایا اور لوگ گمراہی میں مبتلا تھے۔یعنی خدا اور اس کی صراطِ مستقیم سے بہت دُور جا پڑے تھے۔تب ایسے وقت میں خدا تعالیٰ نے اپنار سول اُمّی بھیجا اور اس رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) نے ان کے نفسوں کو پاک کیا اور علم الکتاب اور حکمت سے ان