خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 240
خطبات مسرور جلد 15 240 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 26 مئی 2017 معصوموں کے قتل اور تباہی پھیلانے میں کسی مسلمان کا ہاتھ ہے تو دل کڑھتا ہے، بے چینی ہوتی ہے۔گزشتہ دنوں یہاں یو کے میں مانچسٹر میں واقعہ ہوا اور بلا وجہ بائیس تنیس لوگوں کا قتل کر دیا گیا جس میں موم بچے بھی شامل تھے۔یہ انتہائی ظالمانہ فعل ہے اور کسی بھی صورت میں یہ اسلام کی تعلیم کی طرف منسوب نہیں کیا جا سکتا۔ایسے ظالمانہ واقعات دیکھ کر ہم بے چین ہوتے ہیں۔اللہ تعالیٰ ان مرنے والوں پر بھی رحم کرے اور ان کے لواحقین کو بھی صبر عطا فرمائے اور ان ظالموں کے ہاتھوں کو بھی روکے جو اسلام کے نام پر اور خلافت کے نام پر ایسی حرکتیں کر رہے ہیں۔اسی طرح دنیا کے مسلمان ممالک میں بھی جو قتل و غارت اور ظلم و بربریت ہو رہی ہے یہ سب دین سے دور ہٹنے اور اللہ تعالیٰ کے حکم کو نہ مانے کا نتیجہ ہے۔یہ عمل جو اسلام کی تعلیم کے خلاف ہو رہے ہیں اور یہ ظلم جو اسلام کے نام پر ہو رہے ہیں اور اسی طرح وہ ظلم بھی جو مسلمان حکومتیں غیر حکومتوں کی مدد سے مسلمانوں کو بمباری کر کے یا بلا امتیاز قتل و غارت کر کے کر رہی ہیں ان سب کا درد ہم احمدی سب سے زیادہ محسوس کر سکتے ہیں جنہوں نے اسلام کی تعلیم کو پہچانا، جنہوں نے اسلام کی محبت اور پیار اور امن کی تعلیم کو پہچانا، جنہوں نے خلافت کے ہاتھ کے نیچے خوف کو امن میں بدلنے کے نظارے دیکھے۔ہم ہی سب سے زیادہ اس کو محسوس کر سکتے ہیں۔اس زمانے میں قرآن کریم کی تعلیم کو سمجھتے ہوئے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کا ادراک حاصل کرتے ہوئے ہم احمدی ہیں جو امن اور سلامتی کے مضمون کو خاتم الخلفاء کے ساتھ جڑنے کی وجہ سے سمجھتے ہیں۔خلافت نہ دنیاوی طاقت سے مل سکتی ہے ، نہ دنیاوی چالاکیوں سے ، نہ نام نہاد علماء کے جمع ہو کر قرار دادیں پاس کرنے سے جیسا کہ کچھ سال پہلے یہ کوشش بھی ہو چکی ہے کہ مسلمان اکٹھے ہوں اور اپنا کوئی خلیفہ چن لیں، اس طرح نہیں ہو گی۔خلافت کا نظام جو خوف کو امن میں بدلنے والا نظام ہے، جو اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرتے ہوئے تمکنت دین کا ذریعہ بنے والا ہے، اس کا تعلق اس ذریعہ سے قائم ہونے والی خلافت سے ہے جس نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے بتائے ہوئے طریق کے مطابق عمل میں آنا ہے۔جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں سورۃ جمعہ میں فرمایا کہ وَآخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ اور انہی میں سے دوسروں کی طرف بھی (مبعوث کیا ہے) جو ابھی ان سے نہیں ملے۔جب یہ آیت نازل ہوئی تو صحابہ کی مجلس میں بیٹھے ہوئے ایک صحابی نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا۔یا رسول اللہ ! وہ کون لوگ ہیں جو ابھی ان کے ساتھ نہیں ملے اور صحابہ کا درجہ رکھتے ہیں؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا جواب نہ دیا۔اس شخص نے تین مرتبہ یہ سوال دہرایا۔اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سلمان فارسی کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر فرمایا کہ اگر ایمان ثریا کے پاس بھی پہنچ گیا تو ان