خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 242
خطبات مسرور جلد 15 242 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 26 مئی 2017 کو مملو کیا۔"کتاب کے علم اور حکمت سے ان کو بھرا۔" یعنی نشانوں اور معجزات سے مرتبہ یقین کامل تک پہنچایا۔" نشانات بھی دکھائے۔معجزات بھی دکھائے۔اللہ تعالیٰ کی قدرتوں کے نظارے دکھائے اور ان کے ایمان میں اتنی ترقی ہوئی کہ وہ یقین کامل تک پہنچ گئے " اور خداشناسی کے نور سے ان کے دلوں کو روشن کیا۔اور پھر فرمایا کہ ایک گر وہ اور ہے جو آخری زمانہ میں ظاہر ہو گا۔وہ بھی اول تاریکی اور گمراہی میں ہوں گے اور علم اور حکمت اور یقین سے دُور ہوں گے تب خدا ان کو بھی صحابہ کے رنگ میں لائے گا۔یعنی جو کچھ صحابہ نے دیکھا وہ ان کو بھی دکھایا جائے گا یہاں تک کہ اُن کا صدق اور یقین بھی صحابہ کے صدق اور یقین کی مانند ہو جائے گا۔" ایام الصلح روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 304) پس آپ علیہ السلام نے جہاں اپنے صحابہ میں وہ یقین اور ایمان پیدا کیا اور انہوں نے اپنے ایمان اور یقین میں کامل ہونے کے لئے قربانیاں دیں اور اس تاریکی سے باہر نکلے جس نے ہر طرف اندھیرا کیا ہوا تھا۔دنیا میں ضلالت چھائی ہوئی تھی اور لوگ اسلام کو بھول رہے تھے تو آپ نے دوبارہ آ کے اسلام کی نشاۃ ثانیہ فرمائی اور ان صحابہ نے مسیح موعود کے ساتھ جڑ کر وہ روشنی حاصل کی جو دین کی روشنی تھی۔مختلف نشانات دیکھے جن کا ذکر ہمارے لٹریچر میں سینکڑوں ہزاروں میں ملتا ہے۔آج بھی بہت سے ایسے ہیں جو تاریکی سے نکل کر روشنیاں دیکھ رہے ہیں اور نشانات دیکھ کر جماعت احمد یہ میں شامل ہو رہے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے ماننے والوں کے متعلق فرمایا کہ " وہ خدا تعالیٰ کے نشانوں اور تازہ بتازہ تائیدات سے نور اور یقین پاتے ہیں جیسا کہ صحابہ نے پایا۔وہ خدا کی راہ میں لوگوں کے ٹھٹھے اور ہنسی اور لعن طعن اور طرح طرح کی دل آزاری اور بد زبانی اور قطع رحم وغیرہ کا صدمہ اٹھا رہے ہیں۔"رشتہ داریوں کے چھٹنے کے صدمے اٹھارہے ہیں "جیسا کہ صحابہ نے اٹھایا۔" ایام الصلح روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 306) یہ واقعات صرف اُسی وقت میں ہی نہیں ہوئے یا اُسی قوم پاکستان یا ہندوستان میں نہیں ہو رہے جہاں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مبعوث ہوئے۔بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی میں کیونکہ آپ تمام دنیا کو امت واحدہ بنانے کے لئے آئے تھے اور خدا تعالیٰ کا عبد بنانے کے لئے آئے تھے اس لئے دنیا کے دوسرے ممالک میں بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ماننے والوں کو ان تکلیفوں اور مشکلات سے گزرنا پڑ رہا ہے لیکن انتہائی صبر اور ثابت قدمی سے وہ ہر سختی کا مقابلہ کر رہے ہیں۔چنانچہ الجزائر کی ہی مثال آجکل ہمارے سامنے ہے۔یہ کوئی اتنی پر انی جماعت نہیں ہے لیکن مسیح موعود کو مان کر آخرین میں شامل ہونے کے بعد اور خلافت کی اطاعت میں آکر ان کے ایمان اللہ تعالیٰ کے فضل سے