خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 239
خطبات مسرور جلد 15 239 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 26 مئی 2017 برکات کے نمونے اس کے روحانی خلیفوں کے ذریعہ سے ظاہر ہوں۔ایسی باتوں کو سن کر تو ہمارا بدن کانپ جاتا ہے۔مگر افسوس کہ وہ لوگ بھی مسلمان ہی کہلاتے ہیں کہ جو سراسر چالا کی اور بیبا کی کی راہ سے ایسے بے ادبانہ الفاظ منہ پر لے آتے ہیں کہ گویا اسلام کی برکات آگے نہیں بلکہ مدت ہوئی کہ ان کا خاتمہ ہو چکا ہے۔" شهادة القرآن روحانی خزائن جلد 6 صفحہ 330) ایک جگہ آپ نے یہ بھی فرمایا کہ اگر صرف تیس سال تک ہی خلافت رہنی تھی اور اس کے بعد کچھ نہیں تھا اور یہی اسلام کی کل عمر تھی تو اللہ تعالیٰ قدرت رکھتا تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو تیس سال اور زندگی دے دیتا اور ترانوے سال کی زندگی کوئی ایسی زندگی نہیں جو غیر معمولی ہو۔پھر خلافت کی ضرورت کیا تھی۔(ماخوذ از شہادۃ القرآن جلد 6 صفحہ 354) پس ایسے لوگ بھی ہیں جو ایسے نظریات رکھتے ہیں۔یہ لوگ ہیں جن کا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کچھ تفصیل سے نقشہ کھینچا ہے۔لیکن کچھ ایسے بھی ہیں جو اپنی دنیاوی حکومتوں کے بل بوتے پر اپنی خلافت قائم کرنا چاہتے ہیں۔ان کے خیال میں خلافت کسی طاقت کی وجہ سے قائم ہو جائے گی۔اور ایسے لوگ اللہ تعالیٰ کے اس واضح پیغام کو نہیں سمجھتے کہ ایمان اور عمل صالح کے ساتھ یہ وعدہ مشروط ہے۔اللہ تعالیٰ کا حقیقی عابد بننے والوں کے ساتھ یہ وعدہ مشروط ہے۔عام مسلمانوں کے اس غلط نظریے کی وجہ سے اسلام مخالف طاقتوں نے بھی اسلامی دنیا کو کمزور کرنے کے لئے ایسی تنظیموں کو قائم کرنے میں کردار ادا کیا اور مدد دینی شروع کی جنہوں نے خلافت کے نام پر اپنے آپ کو منظم کیا۔لیکن یہ کچھ عرصہ تک دنیاوی مقاصد حاصل کر کے دنیاوی آقاؤں کی مدد نہ ملنے کی وجہ سے یا ان کے مقاصد پورے ہونے کی وجہ سے ختم ہو رہی ہیں۔تین سال ہوئے آئر لینڈ میں مجھے ایک جر نلسٹ نے پوچھا کہ اسلامی دنیا میں یہ جو خلافت کا اب دور شروع ہوا ہے، اس کی کیا حقیقت ہے اور یہ پھیلے گی ؟ تمہاری جو خلافت ہے اس کو اس سے کیا خطرہ ہے ؟ تو میں نے اس کو یہی جواب دیا تھا کہ یہ خلافت نہیں۔یہ اسی طرح شدت پسند لوگوں کا ایک گروہ ہے جس طرح پہلے گروہ کام کر رہے ہیں اور اس کا انجام بھی آخر میں وہی ہو گا جو باقی شدت پسند گروہوں کا ہو رہا ہے۔جب تک دنیاوی آقا ان سے خوش رہیں گے یہ کام کرتے رہیں گے۔جب وہ اپنے ہاتھ کھینچ لیں گے تو آہستہ آہستہ یہ کمزور ہو نا شروع ہو جائیں گے۔ان لوگوں نے دین کو کیا تمنت دینی ہے اور کیا امن انہوں نے قائم کرنا تھا۔ہاں دنیا نے یہ دیکھا کہ انہوں نے اسلامی دنیا کے امن کو تباہ و برباد کر دیا۔اسلام مخالف طاقتوں کا اسلامی دنیا کو کمزور کرنے کا ایک ایجنڈا تھاوہ انہوں نے پورا کر دیا اور اس میں مسلمان حکومتوں کے سربراہ بھی شامل ہیں جنہوں نے اپنی کرسیاں بچانے کے لئے رعایا کا خون کیا اور ابھی تک بجائے امن کے مسلمان مسلمان کے لئے ہی خوف کا باعث بنا ہوا ہے اور پھر غیر مسلم دنیا کے امن کو بھی یہی لوگ برباد کر رہے ہیں۔اس کی وجوہات کچھ بھی ہوں لیکن ایک درد مند مسلمان جب یہ دیکھتا ہے کہ دنیا میں