خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 238
خطبات مسرور جلد 15 238 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 26 مئی 2017 مسلمان علماء کے غلط نظریات، قرآن کریم اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم اور ارشادات کی گہرائی کو نہ سمجھنے اور صرف سطحی تشریحیں اور تفسیریں کرنے کی وجہ سے مسلمانوں کی اکثریت اس بات کو سمجھتی ہی نہیں کہ خلافت کا نظام کس طرح قائم ہو گا۔اور ایک بہت بڑا طبقہ مسلمانوں میں ایسا بھی ہے جو یہ کہتا ہے کہ کسی خلافت کی ضرورت نہیں ہے اور جو جو جس جس فرقے سے تعلق رکھتا ہے اس پر عمل کرے اور یہی کافی ہے کیونکہ آجکل مسلمانوں کی دنیا کے سامنے جو حالت ہے اور جس طرح اسلام بدنام ہو رہا ہے اس کا تقاضا یہی ہے کہ جو جس طرح رہ رہا ہے، رہے۔ایک مسجد کے امام ہیں بلکہ وہ مولوی صاحب اپنا ایک ادارہ بھی چلاتے ہیں۔بظاہر دین کا علم رکھنے والے ہیں۔انہی مغربی ممالک میں رہتے ہیں۔ہم احمدیوں سے ان کے تعلقات بھی اچھے ہیں۔وہ احمدیوں کو برا بھی نہیں سمجھتے۔انہوں نے خود مجھے کہا کہ میں جس اسلامی مکتبہ فکر سے تعلق رکھتا ہوں ان کے بزرگوں نے یہی کہا ہے کہ کسی کے دین کو چھیرونہ اور اپنادین چھوڑو نہ۔اب جو ایسے نظریات رکھنے والے ہیں اور علماء کہلاتے ہیں وہ اپنے ماننے والوں اور پیچھے چلنے والوں کو یہی سبق دیں گے کہ کسی ایک خلافت پر متحد ہونے کی کوئی ضرورت نہیں۔یہ باتیں ظاہر کرتی ہیں کہ ان کے نزدیک ذاتیات اور فرقے مسلم ائمہ کے وسیع تر مفاد اور ایک ہاتھ پر جمع ہونے کی نسبت زیادہ اہمیت رکھتے ہیں۔پس جب قرآن کریم کی تعلیم کو نہ سمجھیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات پر غور نہ کریں تو پھر یہی کچھ ہوتا ہے۔مسلمانوں کی بلکہ کہنا چاہئے کہ مسلمان علماء کی کم علمی اور جہالت کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک جگہ فرماتے ہیں کہ : " بعض صاحب آیت وَعَدَ اللهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ لَيَسْتَخْلِفَتَهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ (النور: 56) کی عمومیت سے انکار کر کے کہتے ہیں " عمومی طور پر جو اس کے معنی ہیں اس کا انکار کر کے کہتے ہیں " کہ مِنكُم سے صحابہ ہی مراد ہیں اور خلافت راشدہ حقہ انہیں کے زمانہ تک ختم ہو گئی۔" صحابہ کے زمانے تک خلافت راشدہ رہی۔فرمایا " اور پھر " ان لوگوں کے نزدیک " قیامت تک اسلام میں اس خلافت کا نام و نشان نہیں ہو گا۔گویا ایک خواب و خیال کی طرح اس خلافت کا صرف تیس برس ہی دور تھا۔اور پھر ہمیشہ کے لئے اسلام ایک لازوال نحوست میں پڑ گیا۔" نعوذ باللہ۔آپ فرماتے ہیں "مگر میں پوچھتا ہوں کہ کیا کسی نیک دل انسان کی ایسی رائے ہو سکتی ہے کہ وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی نسبت تو یہ اعتقاد رکھے کہ بلاشبہ ان کی شریعت کی برکت اور خلافت راشدہ کا زمانہ برابر چودہ سو برس تک رہا۔لیکن وہ نبی جو افضل الرسل اور خیر الانبیاء کہلاتا ہے اور جس کی شریعت کا دامن قیامت تک ممتد ہے اس کی برکات گویا اس کے زمانہ تک ہی محدود ر ہیں۔اور خدا تعالیٰ نے نہ چاہا کہ کچھ بہت مدت تک اس کی