خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 235 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 235

خطبات مسرور جلد 15 235 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 19 مئی 2017 کے بارے میں حالات دریافت فرمارہے تھے اور اس کے بعد آپ نے انہیں نصیحت فرمائی کہ " ان کے حق میں دعا کیا کرو۔" وہ احمدی نہیں تھے۔غیر مسلم تھے۔" ہر طرح اور حتی الوسع والدین کی دلجوئی کرنی چاہئے اور ان کو پہلے سے ہزار چند زیادہ اخلاق اور اپنا پاکیزہ نمونہ دکھلا کر اسلام کی صداقت کا قائل کرو۔اخلاقی نمونہ ایسا معجزہ ہے کہ جس کی دوسرے معجزے برابری نہیں کر سکتے۔بچے اسلام کا یہ معیار ہے کہ اس سے انسان اعلیٰ درجے کے اخلاق پر ہو جاتا ہے اور وہ ایک ممیز شخص ہوتا ہے۔شاید خدا تعالیٰ تمہارے ذریعہ ان کے دل میں اسلام کی محبت ڈال دے۔اسلام والدین کی خدمت سے نہیں روکتا۔دنیوی امور جن سے دین کا حرج نہیں ہو تا ان کی ہر طرح سے پوری فرمانبر داری کرنی چاہئے۔دل و جان سے ان کی خدمت بجالاؤ۔" (ملفوظات جلد 4 صفحہ 175 حاشیہ ) پس یہ عمومی اصول بھی ہے تبلیغ میں کہ نرم زبان ہمیشہ استعمال ہونی چاہئے اعلیٰ اخلاق دکھلانے چاہئیں۔پھر ایک اور واقعہ ہے۔یہاں باپ بھی مسلمان ہے۔اس کا تفصیلی جواب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دیا : " ایک شخص نے سوال کیا کہ یا حضرت والدین کی خدمت اور ان کی فرمانبرداری اللہ تعالیٰ نے انسان پر فرض کی ہے مگر میرے والدین حضور کے سلسلہ بیعت میں داخل ہونے کی وجہ سے مجھ سے سخت بیزار ہیں اور میری شکل تک دیکھنا پسند نہیں کرتے۔چنانچہ جب میں حضور کی بیعت کے واسطے آنے کو تھا تو انہوں نے مجھے کہا کہ ہم سے خط و کتابت بھی نہ کرنا اور اب ہم تمہاری شکل بھی دیکھنا پسند نہیں کرتے۔اب میں اس فرض الہی کی تعمیل سے کس طرح سبکدوش ہو سکتا ہوں۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ والدین کی خدمت کرو اور وہ میری شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتے۔تعلق نہیں رکھنا چاہتے تو میں اس خدمت کو ، اس فرض کو کس طرح پورا کروں۔آپ نے " فرمایا کہ قرآن شریف جہاں والدین کی فرمانبر داری اور خدمت گزاری کا حکم دیتا ہے وہاں یہ بھی فرماتا ہے کہ رَبُّكُمْ أَعْلَمُ بِمَا فِي نُفُوسِكُمْ إِنْ تَكُونُوا صْلِحِيْنَ فَإِنَّهُ كَانَ لِلْأَوَّابِينَ غَفُورًا ( بنی اسرائیل:26) اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے۔اگر تم صالح ہو تو وہ اپنی طرف جھکنے والوں کے واسطے غفور ہے۔صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کو بھی بعض ایسے مشکلات پیش آگئے تھے کہ دینی مجبوریوں کی وجہ سے ان کی ان کے والدین سے نزاع ہو گئی تھی۔بہر حال تم اپنی طرف سے ان کی خیریت اور خبر گیری کے واسطے ہر وقت تیار رہو۔جب کوئی موقع ملے اسے ہاتھ سے نہ دو۔تمہاری نیت کا ثواب تم کو مل کے رہے گا۔اگر محض دین کی وجہ سے اور اللہ " تعالیٰ " کی رضا کو مقدم کرنے کے واسطے والدین سے الگ ہونا پڑا ہے تو یہ ایک مجبوری ہے۔اصلاح کو مد نظر رکھو اور نیت کی صحت کا لحاظ رکھو اور ان کے حق میں دعا کرتے رہو۔یہ معاملہ کوئی آج نیا نہیں پیش آیا۔حضرت ابراہیم کو بھی ایسا ہی واقعہ پیش آیا تھا۔بہر حال خدا کا حق مقدم ہے۔پس خدا تعالیٰ کو مقدم کرو اور اپنی طرف سے والدین کے