خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 234
خطبات مسرور جلد 15 234 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 19 مئی 2017 فرمایا : کیا تیرے ماں باپ زندہ ہیں ؟ اس نے کہا ہاں زندہ ہیں۔تو آپ نے فرمایا کہ ان دونوں کی خدمت کرو یہی تمہارا جہاد ہے۔(صحیح البخارى كتاب الجهاد والسير باب الجهاد باذن الابوين حديث 3004) پس والدین کی خدمت کی اہمیت کا اس سے اندازہ ہو سکتا ہے۔پھر یہی نہیں بلکہ آپس میں محبت اور پیار کو پھیلانے کے لئے والد کے دوستوں سے بھی حسن سلوک کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔چنانچہ ایک موقع پر آپ نے فرمایا کہ انسان کی بہترین نیکی یہ ہے کہ اپنے والد کے دوستوں کے ساتھ حسن سلوک کرے جبکہ اس کا والد فوت ہو چکا ہو۔پھر اس بات کو مزید کھول کر ایک موقع پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس کا روایت میں یوں ذکر ملتا ہے۔حضرت ابو اسید الساعدی کہتے ہیں کہ ہم لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے کہ بنی سلمہ کا ایک شخص حاضر ہوا اور پوچھنے لگا کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، والدین کی وفات کے بعد کوئی ایسی نیکی ہے جو میں ان کے لئے کر سکوں۔آپ نے فرمایا: ہاں کیوں نہیں۔تم ان کے لئے دعائیں کرو۔ان کے لئے بخشش طلب کرو۔انہوں نے جو وعدے کسی سے کر رکھے تھے انہیں پورا کرو۔ان کے عزیز و اقارب سے اسی طرح صلہ رحمی اور حسن سلوک کرو جس طرح وہ اپنی زندگی میں ان کے ساتھ کیا کرتے تھے اور ان کے دوستوں کے ساتھ عزت و اکرام کے ساتھ پیش آؤ۔(سنن ابی داؤد کتاب الادب باب فی برالوالدین حدیث 5143) (سنن ابی داود کتاب الادب باب في بر الوالدین حدیث 5142) پھر ایک موقع پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس شخص کی خواہش ہو کہ اس کی عمر لمبی ہو اور اس کا رزق بڑھا دیا جائے تو اس کو چاہئے کہ اپنے والدین سے حسن سلوک کرے اور صلہ رحمی کی عادت ڈالے۔(الجامع لشعب الايمان جلد 10 صفحه 264-265 باب بر الوالدین حدیث 7471 مكتبة الرشد ناشرون الرياض 2004ء) پس بچے صرف نخرے اٹھانے کے لئے نہیں ہیں بلکہ بلوغت کو پہنچ کر ان کے بھی کچھ فرائض ہیں اور ماں باپ کے بھی کچھ حقوق ہیں جو انہوں نے ادا کرنے ہیں۔شادیوں کے بعد خاص طور پر ان فرائض کی طرف توجہ دینی ضروری ہے اور اگر انسان بیوی کے بھی فرائض ادا کر رہا ہو اور والدین کی بھی خدمت کر رہا ہو اور بیوی کو بھی حکمت سے یہ احساس دلائے کہ ساس سسر کی کیا اہمیت ہے اور خود بھی اپنے ساس سسر کی خدمت اور اس کی اہمیت کو جانتا ہو تو گھروں میں جو بعض دفعہ جھگڑے پیدا ہو رہے ہوتے ہیں کبھی پیدا نہ ہوں۔بعض دفعہ دینی اختلاف کی وجہ سے باپ بیٹوں میں اختلاف پیدا ہو جاتا ہے۔بعض نومبائعین اب بھی یہ سوال کرتے ہیں۔اس صورت میں بیٹوں کو باپوں سے نیک سلوک بھی کرنا ہے اور ان کی خدمت بھی کرنی ہے۔ایک مرتبہ بٹالہ کے سفر کے دوران حضرت مسیح موعود علیہ السلام شیخ عبد الرحمن صاحب سے ان کے والد صاحب