خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 233
خطبات مسرور جلد 15 233 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 19 مئی 2017 الصَّالِحِينَ (الاعراف: 197)۔یعنی اللہ تعالیٰ آپ صالحین کا متولی اور متکفل ہوتا ہے۔اگر بد بخت ہے تو خواہ لاکھوں روپیہ اس کے لئے چھوڑ جاؤ وہ بدکاریوں میں تباہ کر کے پھر قلاش ہو جائے گی اور ان مصائب اور مشکلات میں پڑے گی جو اس کے لئے لازمی ہیں۔" فرمایا "جو شخص اپنی رائے کو خدا تعالیٰ کی رائے اور منشاء سے متفق کرتا ہے وہ اولاد کی طرف سے مطمئن ہو جاتا ہے اور وہ اسی طرح پر ہے کہ اس کی صلاحیت کے لئے کوشش کرے اور دعائیں کرے۔اس صورت میں خود اللہ تعالیٰ اس کا تکفل کرے گا۔" اس کو سنبھال لے گا۔اس کا کفیل ہو جائے گا۔صلاحیت کے لئے کوشش کرے یعنی اس کی تربیت کی طرف بہت زیادہ توجہ دے۔فرمایا کہ۔۔۔۔۔حضرت داؤد علیہ السلام کا ایک قول ہے کہ میں بچہ تھا۔جوان ہوا۔اب بوڑھا ہو گیا۔میں نے متقی کو کبھی ایسی حالت میں نہیں دیکھا کہ اسے رزق کی مار ہو۔اور نہ اس کی اولاد کو ٹکڑے مانگتے دیکھا۔اللہ تعالیٰ تو کئی پشت تک رعایت رکھتا ہے۔پس خود نیک بنو اور اپنی اولاد کے لئے ایک عمدہ نمونہ نیکی اور تقویٰ کا ہو جاؤ۔" بات وہی ہے کہ اولاد کا حق ادا کرنے کے لئے بھی اپنی حالت کو اس کے مطابق ڈھالنا ہو گا جس کی اسلام تعلیم دیتا ہے اور تبھی اگلی نسل جو ہے وہ صحیح رستوں پر چلنے والی ہو گی اور والدین کے لئے آنکھوں کی ٹھنڈک کا باعث بنے گی۔آپ فرماتے ہیں "خود نیک بنو اور اپنی اولاد کے لئے ایک عمدہ نمونہ نیکی اور تقویٰ کا ہو جاؤ اور اس کو متقی اور دیندار بنانے کے لئے سعی اور دعا کرو۔جس قدر کوشش تم ان کے لئے مال جمع کرنے کی کرتے ہو اسی قدر کوشش اس امر میں کرو۔" " فرمایا کہ۔۔۔۔۔۔۔پس وہ کام کرو جو اولاد کے لئے بہترین نمونہ اور سبق ہو اور اس کے لئے ضروری ہے کہ سب سے اول خود اپنی اصلاح کرو۔اگر تم اعلیٰ درجہ کے متقی اور پرہیز گار بن جاؤ گے اور خدا تعالیٰ کو راضی کر لو گے تویقین کیا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہاری اولاد کے ساتھ بھی اچھا معاملہ کرے گا۔" ( ملفوظات جلد 8 صفحہ 108 تا110) جہاں اسلام باپ کو یہ کہتا ہے کہ اپنے بچوں کی تربیت کی طرف توجہ دو اور ان کے لئے دعائیں کر دوہاں بچوں کو بھی حکم دیتا ہے کہ تمہارا بھی کچھ فرض ہے۔جب تم بالغ ہو جاؤ تو ماں باپ کے بھی تم پر کچھ حقوق ہیں۔ان کو تم نے ادا کرنا ہے۔یہ رشتوں کے حقوق کی کڑیاں ہی ہیں جو ایک دوسرے سے جڑنے سے پرامن معاشرہ پیدا کرتی ہیں۔ماں باپ کے حق ادا کرنے کی کتنی بڑی ذمہ داری ہے اور اس کی کتنی اہمیت ہے۔اس بات کا ادراک ہر مومن کو ہونا چاہئے۔ایک لڑکا جب بالغ ہوتا ہے تو اس نے کس طرح ماں باپ کا حق ادا کرنا ہے اس بات کو سمجھاتے ہوئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک موقع پر ارشاد فرمایا۔عبد اللہ بن عمرو سے روایت ہے کہ ایک شخص نے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی کہ میں جہاد پر جانا چاہتا ہوں۔