خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 232
خطبات مسرور جلد 15 232 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 19 مئی 2017 پھر باپوں کی یہ ذمہ داری بھی ہے کہ دینی تربیت کی طرف توجہ دیں۔جہاں بچوں کی تربیت کی طرف عملی توجہ دیں وہاں ان کے لئے دعاؤں کی طرف بھی توجہ دیں۔یہ بھی ضروری چیز ہے۔تربیت کے اصل پھل تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے لگتے ہیں لیکن جو اپنی کوشش ہے وہ انسان کو ضرور کرنی چاہئے۔تربیت کے طریق اور بچوں کے لئے دعاؤں کی طرف توجہ دلاتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ : "ہدایت اور تربیت حقیقی خدا تعالیٰ کا فعل ہے۔" حقیقی تربیت جو ہے اللہ تعالیٰ کا کام ہے۔"سخت پیچھا کرنا اور ایک امر پر اصرار کو حد سے گزار دینا یعنی بات بات پر بچوں کو روکنا اور ٹوکنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ گویا ہم ہی ہدایت کے مالک ہیں اور ہم اس کو اپنی مرضی کے مطابق ایک راہ پر لے آئیں گے۔یہ ایک قسم کا شرک خفی ہے۔اس سے ہماری جماعت کو پر ہیز کرنا چاہیئے۔" اپنے بارے میں فرمایا کہ "ہم تو اپنے بچوں کے لئے دعا کرتے ہیں اور سرسری طور پر قواعد اور آداب تعلیم کی پابندی کراتے ہیں۔" تعلیم ہماری کیا ہے ؟ اس کے آداب کیا ہیں ؟ کیا قواعد ہیں؟ اس کی پابندی کی طرف توجہ دلاتے رہیں۔بس اس سے زیادہ نہیں اور پھر اپنا پورا بھر وسہ اللہ تعالیٰ پر رکھتے ہیں۔جیسا کسی میں سعادت کا تخم ہو گا وقت پر سر سبز ہو جائے گا۔" ( ملفوظات جلد 2 صفحہ 5) پس ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام جب فرماتے ہیں کہ ہم دعا کرتے ہیں تو ان دعاؤں کے معیار بھی بہت بلند ہیں۔اس بات کو معمولی نہیں سمجھنا چاہئے۔اور دعا کے یہ معیار حاصل کرنے کے لئے ہمیں تو بہت زیادہ محنت کرنے کی ضرورت ہے۔یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے۔اس لئے اس طرف باپوں کو توجہ دینی چاہئے۔بحیثیت باپ بچوں کی تربیت کی طرف کس طرح اور کس قدر توجہ دینی چاہئے اس بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام بڑی تفصیل سے ایک جگہ بیان فرماتے ہیں کہ : " بعض لوگوں کا یہ بھی خیال ہوتا ہے کہ اولاد کے لئے کچھ مال چھوڑنا چاہئے۔مجھے حیرت آتی ہے کہ مال چھوڑنے کا تو ان کو خیال آتا ہے مگر یہ خیال ان کو نہیں آتا کہ اس کا فکر کریں کہ اولاد صالح ہو۔طالح نہ ہو۔" یعنی بدکار اور بد نہ ہو بلکہ صالح اور نیک ہو۔فرمایا کہ "مگر یہ وہم بھی نہیں آتا اور نہ اس کی پروا کی جاتی ہے۔بعض اوقات ایسے لوگ اولاد کے لئے مال جمع کرتے ہیں اور اولاد کی صلاحیت کی فکر اور پروا نہیں کرتے۔وہ اپنی زندگی ہی میں اولاد کے ہاتھ سے نالاں ہوتے ہیں اور اس کی بد اطواریوں سے مشکلات میں پڑ جاتے ہیں اور وہ مال جو انہوں نے خدا جانے کن کن حیلوں اور طریقوں سے جمع کیا تھا آخر بد کاری اور شراب خوری میں صرف ہوتا ہے اور وہ اولاد ایسے ماں باپ کے لئے شرارت اور بد معاشی کی وارث ہوتی ہے۔" فرمایا کہ " اولاد کا ابتلا بھی بہت بڑا ابتلا ہے۔اگر اولاد صالح ہو تو پھر کس بات کی پروا ہو سکتی ہے۔خدا تعالیٰ خود فرماتا ہے وَهُوَ يَتَوَلَّى