خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 231
خطبات مسرور جلد 15 231 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 19 مئی 2017 ضرورت سے زیادہ ہی آزادی حاصل نہ کر لیں اور یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ بعض ضرورت سے زیادہ آزاد ہو گئی ہیں اور برائے نام پر دہ رہ گیا ہے۔یہ بھی غلط ہے۔پس عور تیں بھی یاد رکھیں کہ سر اور جسم کو حیا کے تقاضے پورے کرتے ہوئے ڈھانپنا ضروری ہے۔یہی اللہ کا حکم ہے۔اس کا خیال رکھنا چاہئے۔میاں بیوی کے تعلق کا معیار کیا ہونا چاہیے ؟ اس بات کو بیان فرماتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: " چاہئے کہ بیویوں سے خاوندوں کا ایسا تعلق ہو جیسے دو بچے اور حقیقی دوستوں کا ہوتا ہے۔انسان کے اخلاق فاضلہ اور خدا تعالیٰ سے تعلق کی پہلی گواہ تو یہی عور تیں ہوتی ہیں۔اگر ان ہی سے اُس کے تعلقات اچھے نہیں ہیں تو پھر کس طرح ممکن ہے کہ خدا تعالیٰ سے صلح ہو۔"گھر میں ہی تعلقات ٹھیک نہیں تو پھر یہ بھی مشکل ہے کہ اللہ تعالیٰ سے بھی صلح ہو اور اللہ کے احکامات پر عمل ہو۔فرمایا کہ "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لِاَهْلِهِ۔تم میں سے اچھا وہ ہے جو اپنے اہل کے لئے اچھا ہے۔" ( ملفوظات جلد 5 صفحہ 417-418) پس یہ ہے وہ معیار جو ہر مرد کو اپنانا چاہئے۔پھر مردوں کی بحیثیت باپ جو ذمہ داری ہے اسے بھی سمجھنے کی ضرورت ہے۔صرف یہ نہ سمجھ لیں کہ یہ صرف ماں کی ذمہ داری ہے کہ بچے کی تربیت کرے۔بیشک ایک عمر تک بچے کا وقت ماں کے ساتھ گزرتا ہے اور انتہائی بچپن کی ماؤں کی تربیت بچے کی تربیت کرنے میں بہت اہم کردار ادا کرتی ہے لیکن اس سے مرد اپنے فرائض سے بری الذمہ نہیں ہو جاتے۔باپوں کو بھی بچوں کی تربیت میں اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔خاص طور پر لڑ کے جب سات آٹھ سال کی عمر کو پہنچتے ہیں تو اس کے بعد پھر وہ باپوں کی توجہ اور نظر کے محتاج ہوتے ہیں، ورنہ خاص طور پر اس مغربی ماحول میں بچوں کے بگڑنے کے زیادہ امکان ہو جاتے ہیں۔یہاں بھی وہی اصول لاگو ہو گا جس کا عورتوں کے ضمن میں پہلے ذکر ہو چکا ہے کہ مردوں کو، باپوں کو اپنے نمونے دکھانے اور قائم کرنے کی ضرورت ہے۔باپوں کو جہاں بچوں کی عزت و احترام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ان کے اخلاق اچھے ہوں وہاں ان پر گہری نظر رکھنے کی بھی ضرورت ہے تاکہ وہ ماحول کے بد اثرات سے بچ کر رہیں۔پھر باپوں کا بچوں سے تعلق بچوں کو ایک تحفظ کا بھی احساس دلاتا ہے۔بہت سے باپ بچوں کے رویوں کے بارے میں شکایت کرتے ہیں کہ ان میں جھجھک پیدا ہو گئی ہے یا اعتماد کی کمی پیدا ہو گئی ہے یا غلط بیانی زیادہ کرنے لگ گئے ہیں۔اور جب باپوں کو کہا جائے کہ بچوں کے زیادہ قریب ہوں اور ان سے ذاتی تعلق پیدا کریں، دوستانہ تعلق پیدا کریں تو عموماً دیکھنے میں آیا ہے پھر اس کے نتیجہ میں بچے کی جو کمزوریاں ہیں یہ دُور ہو نا شروع ہو جاتی ہیں۔پس بچوں میں باہر کے ماحول سے تحفظ کا احساس دلانے کے لئے ضروری ہے کہ باپ کچھ وقت بچوں کے ساتھ باہر گزار آئے۔