خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page xxvi of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page xxvi

xviii خلاصہ خطبات خطبات مسرور جلد 15 صدی ہی ہے۔مسیح موعود کی تکذیب اصل میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب ہے۔اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو عقل دے کہ وہ صرف مولویوں کی باتوں میں نہ آئیں بلکہ اپنی عقل استعمال کریں اور خالص ہو کر اللہ تعالٰی سے مدد مانگیں۔اللہ تعالٰی ان کے دل کھولے اور یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو مان کر اس حالت سے باہر نکلیں جس ایک عجیب حالت میں آجکل مسلمان دنیا پھنسی ہوئی ہے۔لبیک یارسول اللہ کہنے والے تو اصل میں ہم احمدی ہیں جنہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کو سنا کہ جب میرا مسیح و مہدی آئے تو اس کو ماننا۔اس کو سلام کہنا۔یہ ہے لبیک کہنے کا صحیح طریقہ۔خطبہ: 47 مورخہ : 24 نومبر بمقام: بیت الفتوح لندن صفحہ:581-569 خلاصہ: گزشتہ خطبہ میں میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حوالے سے بتایا تھا کہ آپ نے فرمایا ہے کہ اگر انسان تعصب سے پاک ہو کر اور ہر قسم کی ضد سے پاک ہو کر اللہ تعالیٰ سے دعا کرے، بے چین ہو کر اللہ تعالیٰ سے نمازوں میں دعامانگے تو چالیس دن نہیں گزریں گے کہ اللہ تعالیٰ اس پر حق کھولے گا۔لیکن صاف دل ہونا، ہر قسم کے تعصب سے پاک ہونا یہ انتہائی ضروری ہے۔بہت سے لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانے میں بھی آپ کی زندگی میں خوابوں کے ذریعہ سے رہنمائی فرمائی۔یہ سلسلہ جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانے میں شروع ہوا تھا آج بھی قائم ہے۔نیک فطرت لوگوں کی اللہ تعالی رہنمائی بھی فرماتا ہے۔دنیا کے مختلف ممالک میں بسنے والے سعید فطرت اور حق کے متلاشی لوگوں کی اللہ تعالیٰ کی طرف سے خوابوں اور رویا کے ذریعہ سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ و السلام کی صداقت کی طرف رہنمائی کے ایمان افروز واقعات کا بیان۔خطبہ: 48 01 دسمبر بمقام: بیت الفتوح - لندن صفحہ :594-582 خلاصہ 12 / ربیع الاول کا دن وہ دن ہے جب دنیا میں وہ نور آیا جس کو اللہ تعالیٰ نے سراج منیر کہا۔جس کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وہا از سالک الا رحمة العلمین (الانبیا 108 ) اور ہم نے تجھے دنیا کے لئے صرف رحمت بنا کر بھیجا ہے۔جو صرف انسانوں کے لئے نہیں بلکہ چرند پرندسب کے لئے رحمت ہے۔جو صرف مسلمانوں کے لئے نہیں بلکہ غیر مسلموں کے لئے بھی رحمت تھا اور ہے۔اور جس کی تعلیم تا قیامت ہر ایک کے لئے رحمت ہے۔پاکستان اور دوسرے مسلمان ممالک میں فتنہ و فساد اور رسول اللہ صلی علی نظم کے اسوہ حسنہ سے انحراف کی تکلیف دہ صور تحال کا تذکرہ اور آنحضرت صلی اللہ ﷺ کی محبت الہی، قیام عبادات اور ہمدردگی بنی نوع انسان اور عجز و انکسار وغیرہ اخلاق عالیہ کی دلآویز روشن مثالوں کے حوالہ سے آپ کے اُسوہ حسنہ کو اپنانے کی تاکید۔پہلوں سے ملنے والی آخرین کی اس جماعت کے افراد کا بھی فرض بنتا ہے کہ اس اُسوہ کی پیروی کرتے ہوئے جیسے صحابہ نے عبادتوں کے معیار بلند کئے ہم بھی اپنی عبادتوں کے معیار بلند کریں۔الفریقین امریکن احمدی سسٹر محترمہ سلمی غنی صاحبہ آف فلاڈلفیا (امریکہ) کا ذکر خیر۔خطبہ:49 08 دسمبر بمقام: بیت الفتوح - لندن صفحه: 604-595 خلاصہ: آجکل جو مسلمان ملکوں میں فساد کی حالت ہے وہ اس لئے ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو دین سے دور ہٹے ہوؤں کی اور دنیا داروں کی حالت بتائی تھی وہ مسلمانوں کی ہے۔لیڈر ہیں تو دولت سمیٹنے کے لئے عوام کی خدمت کا نعرہ لگا کر حکومت میں آتے ہیں اور پھر دونوں ہاتھوں سے وہ لوٹ مچاتے ہیں کہ تصور سے باہر ہے۔علماء کو عوام کے دین کی بہتری کی فکر کم ہے۔اصل کوشش یہ ہے کہ دین کے نام پر عوام کو اپنے پیچھے چلائیں اور کسی طرح حکومت میں آئیں یا حکومت سے مفاد اٹھائیں اور دولت اکٹھی کریں اور جائیدادیں بنائیں۔ایک مومن کا کام ہے کہ دنیاوی چیزوں پر فخر کرنے اور اس کے حصول کے لئے اپنی تمام تر کوششیں صرف کرنے کی بجائے اللہ تعالیٰ کی مغفرت اور رضا تلاش