خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page xxv
خطبات مسرور جلد 15 xvii خلاصہ خطبات کی کامل اتباع کے نتیجہ میں ملنے والے مراتب کا بصیرت افروز اور روح پرور تذکرہ بمقام: بیت الفتوح لندن صفحہ:532-518 خطبہ: 43 مورخہ : 27 اکتوبر خلاصہ: فاستبقوا الخيرات یعنی تم نیکیوں میں ہمیشہ ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرو اور پھر نیکیاں بجالانے والوں اور نیک اعمال کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ نے بہترین مخلوق قرار دیا ہے۔نیکی کیا چیز ہے؟ حقیقی نیکی کس طرح حاصل کی جاسکتی ہے ؟ نیکیوں کی حقیقت، اس کی حکمت اور اس کی روح کے متعلق حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کے ارشادات کے حوالہ سے پُر معارف بیان۔مکرم حامد مقصود عاطف صاحب (مربی سلسله)، مکرم علی سعید موسوسی صاحب (سابق امیر جماعت تنزانیہ ) اور مکر مہ نصرت بیگم صادقہ صاحبہ ، آف ربوہ کا ذکر خیر۔خطبہ:44 03 نومبر بمقام: بیت الفتوح لندن صفحہ:545-533 خلاصہ: حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کی مالی قربانی کے بارہ میں بعض نصائح کا تذکرہ، دنیا کے مختلف ممالک میں پرانے احمدیوں اور نو احمدیوں کی مالی قربانی اور اس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کے ان سے سلوک اور ان کے اموال میں برکت کے نہایت ایمان افروز واقعات کا بیان۔اتحریک جدید کے چوراسیویں (84) سال کے آغاز کا اعلان۔مختلف پہلوؤں سے ممالک اور جماعتوں کی مالی قربانی کا جائزہ۔کچھ عرصہ قبل مسجد بیت الفتوح کمپلیکس میں آگ لگنے سے عمارت کو جو نقصان ہوا اس کی تعمیر نو کے لئے۔یوکے کی جماعت کے افراد اور دنیا بھر کے مخیر حضرات کو مالی قربانی کی تحریک۔تین سال کے عرصہ میں اپنی رقم کے جو بھی وعدے کریں ان کو پورا کرنے کی کوشش کریں۔لیکن کم از کم تیسر ا حصہ پہلے سال میں ہی ضرور ادا کر لیں۔مکرم عادل حمود ناخوذہ صاحب آف یمن کا ذکر خیر۔خطبہ:45 مورخہ : 10 نومبر بمقام: بیت الفتوح لندن صفحہ :556-546 خلاصہ: بہت بڑی تعداد ایسی ہے جو اپنا حق لینے یا یہ سمجھتے ہوئے کہ میر احق ہے اور دوسرے کا حق مارنے کے لئے سچائی سے کام نہیں لیتی۔آجکل معاشرے کے بہت سے مسائل اس لئے ہیں کہ عدل اور انصاف کے معیار اس پائے کے نہیں ہیں جو اللہ تعالیٰ چاہتا ہے۔اپنی باتوں کو توڑ مروڑ کر پیش کرنا عام بات ہے۔افسوس اس بات کا ہوتا ہے کہ بعض اوقات ہم میں سے بھی بعض لوگ دنیا داری اور ماحول کے زیر اثر با وجود حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت میں آنے کے ایسی باتیں کر جاتے ہیں اور ایسی گواہی دیتے ہیں جو حقائق سے دور ہوتی ہے۔ہم نے اگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے عہد بیعت کو پورا کرنا ہے اور آپ کے مشن کی تکمیل کرنی ہے اور اسلام کے پیغام کو دنیا تک پہنچاتا ہے اور تبلیغ کا حق ادا کرنا ہے تو پھر اسی اصول کے مطابق تمام اعلیٰ اخلاق کو اپنانا ہو گا جو اسلام کی تعلیم ہے ، جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمائے ہیں، جن کے بارے میں ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ یہ کرو۔اگر ہماری گواہیاں حق اور انصاف کے مطابق نہیں ہیں، اگر ہمارے گھر یلو اور معاشرتی تعلقات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کے مطابق نہیں ہیں، اگر ہمارے دل دشمنوں کے لئے بھی بغض اور کینوں سے پاک نہیں ہیں تو پھر ہماری تبلیغ حقیقی ہدایت پہنچانے والی تبلیغ نہیں ہوگی۔خطبہ: 46 مورخہ : 17 نومبر بمقام: بیت الفتوح - لندن صفحہ :568-557 خلاصہ: حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی اپنے دعوی کی صداقت کے بارہ میں پیش فرمودہ مختلف دلیلوں اور علامات، نشانات کا تذکر و مسیح موسوی اور مسیح محمدی میں مماثلتوں کا بیان۔جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مماثلت موسیٰ علیہ السلام سے ہے تو اس مماثلت کے لحاظ سے ضروری ہے کہ اس صدی کا مجدد مسیح ہو کیونکہ مسیح چودھویں صدی پر موسیٰ کے بعد آیا تھا اور آجکل چودھویں