خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 230 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 230

خطبات مسرور جلد 15 230 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 19 مئی 2017 ذکر ہے کہ وہ ایک دفعہ عیسائی ہوا۔" اسلام چھوڑ کر " تو عورت بھی اس کے ساتھ عیسائی ہو گئی۔شراب وغیر ہ اوّل شروع کی پھر پردہ بھی چھوڑ دیا۔غیر لوگوں سے بھی " وہ عورت " ملنے لگی" اس کی بیوی۔"خاوند نے پھر " دوبارہ " اسلام کی طرف رجوع کیا۔"کچھ عرصہ بعد خاوند کو خیال آیا کہ میں نے اسلام کو چھوڑ کے غلطی کی تھی۔دوبارہ اسلام کی طرف رجوع کیا تو اس نے بیوی کو " بھی " کہا کہ " اب " تو بھی میرے ساتھ مسلمان ہو۔اس نے کہا کہ اب میرا مسلمان ہونا مشکل ہے۔یہ عادتیں جو شراب وغیرہ اور آزادی کی پڑ گئی ہیں یہ نہیں چھوٹ سکتیں۔' " ( ملفوظات جلد 5 صفحہ 208-209) یہ تو ایک انتہا ہے کہ مرد اسلام سے بھی دور ہٹ گیا اور دور ہو کر عیسائیت اختیار کرلی لیکن بہت سے مرد ایسے بھی ہوتے ہیں کہ اسلام کو تو نہیں چھوڑتے۔نام کی حد تک اسلام سے منسلک رہتے ہیں۔اپنے آپ کو مسلمان ہی کہتے ہیں لیکن آزادی کے نام پر بہت سی غلط حرکتوں میں ملوث ہو جاتے ہیں۔جیسا کہ پہلے بھی میں ذکر کر کے آیا ہوں اور پھر ان کی دیکھا دیکھی یا مرد کے کہنے پر عورتیں بھی آزادی کے نام پر اسی ماحول میں ڈھل جاتی ہیں۔پھر کچھ عرصہ بعد مردوں کو خیال آتا ہے کہ بیوی زیادہ آزاد ہو گئی ہے اور جب اس کو اس آزادی سے واپس لانے کی کوشش کرتا ہے تو پھر لڑائیاں شروع ہو جاتی ہیں۔پھر مار دھاڑ بھی یہاں ہوتی ہے۔یہاں بھی یہی قصے اور واقعات ہوتے ہیں۔اور جیسا کہ میں نے کہا کہ پھر ان ممالک میں پولیس فور آبیچ میں آجاتی ہے۔عورتوں اور بچوں کے حقوق کے ادارے جو ہیں وہ بیچ میں آجاتے ہیں اور پھر گھر بھی ٹوٹتے ہیں اور بچے بھی برباد ہوتے ہیں۔پس اس سے پہلے کہ گھر ٹوٹیں اور بچے برباد ہوں ایسے مر دوں کو اپنی ذمہ داریوں کو سمجھنا چاہئے جو ان پر اپنے بیوی بچوں کے بارے میں دین ڈالتا ہے اور جو اسلام نے ان کی ذمہ داریاں مقرر کی ہیں۔عورتوں کے حق اور ان سے سلوک کے بارے میں ایک موقع پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ "عورتوں کے حقوق کی جیسی حفاظت اسلام نے کی ہے ویسی کسی دوسرے مذہب نے قطعاً نہیں کی۔مختصر الفاظ میں فرما دیا ہے۔وَلَهُنَّ مِثْلُ الَّذِي عَلَيْهِنَ (البقرة: 229 ) کہ جیسے مر دوں کے عورتوں پر حقوق ہیں، ویسے ہی عورتوں کے مردوں پر " حقوق " ہیں۔" فرمایا کہ " بعض لوگوں کا حال سنا جاتا ہے کہ ان بیچاریوں کو پاؤں کی جوتی کی طرح جانتے ہیں اور ذلیل ترین خدمات ان سے لیتے ہیں۔گالیاں دیتے ہیں۔حقارت کی نظر سے دیکھتے ہیں اور پر دہ کے حکم ایسے ناجائز طریق سے برتے ہیں کہ ان کو زندہ در گور کر دیتے ہیں۔" یعنی ایسی سختی ہے ہاتھ منہ کے پر دے کی اس طرح سختی ہے کہ عورت کے لئے سانس لینا بھی دشوار ہو جاتا ہے۔اس طرح کی سختی نہیں ہونی چاہئے۔لیکن اسلام بڑا سمویا ہوا مذہب ہے۔دوسری طرف عورتوں کو بھی اعتدال کرنا چاہئے کہ پردے کی سہولت کے نام پر