خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 229 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 229

خطبات مسرور جلد 15 229 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 19 مئی 2017 ہماری ماں سے یا ہم سے سلوک اچھا نہیں ہے۔پس اگر گھروں کو پرامن بنانا ہے، اگر اگلی نسلوں کی تربیت کرنی ہے اور ان کو دین سے منسلک رکھنا ہے تو مردوں کو اپنی حالتوں کی طرف توجہ دینی ہو گی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام مردوں کو توجہ دلاتے ہوئے مزید فرماتے ہیں کہ "مرد اپنے گھر کا امام ہوتا ہے۔پس اگر وہی بد اثر قائم کرتا ہے تو کس قدر بد اثر پڑنے کی امید ہے۔" اس کے عمل سے بداثر قائم ہو رہا ہے تو پھر آگے نسلوں میں بھی بد اثر پڑتا چلا جائے گا۔فرمایا کہ " مرد کو چاہئے کہ اپنے قویٰ کو بر محل اور حلال موقع پر استعمال کرے مثلاً ایک قوت غضبی ہے۔"غصہ ہے "جب وہ اعتدال سے زیادہ ہو تو جنون کا پیش خیمہ ہوتی ہے۔غصہ فطرت میں ہے۔ایک انسان میں ہوتا ہے۔لیکن جب حد سے زیادہ بڑھ جائے تو پھر وہ جنون یا پاگل پنے کا پیش خیمہ بن جاتا ہے۔فرمایا کہ " جنون میں اور اس میں بہت تھوڑا فرق ہے۔جو آدمی شدید الغضب ہوتا ہے اس سے حکمت کا چشمہ چھین لیا جاتا ہے۔بلکہ اگر کوئی مخالف ہو تو اس سے بھی مغلوب الغضب ہو کر گفتگو نہ کرے۔" (ملفوظات جلد 5 صفحہ 208) گھر والوں کی بات تو علیحدہ رہی۔مخالفوں سے بھی اس طرح غضبناک ہو کے باتیں نہیں کرنی چاہئیں۔پس یہ ہے معیار کہ گھر میں بیوی بچوں پر غصہ نہیں کرنا اور یہ غصہ تو علیحدہ رہا، اگر کوئی مخالف ہے تو اس سے بھی غضبناک ہو کر اور عقل سے عاری ہو کر بات نہیں کرنی۔مخالف کی بات کو رڈ کرنے کے لئے بھی مومن کے منہ سے غلیظ اور غضب سے بھرے ہوئے الفاظ نہیں نکلنے چاہئیں۔جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا ہے کہ ہندوستان یا پاکستان سے بھی عور تیں اپنے خاوندوں کے ظلموں کے بارے میں لکھتی ہیں۔دونوں جگہ ، قادیان میں بھی اور پاکستان میں بھی نظارت اصلاح وارشاد اور ذیلی تنظیموں کو اس طرف توجہ دینی چاہئے اور باقی دنیا میں بھی اپنی تربیت کے پروگرام کی طرف زیادہ توجہ دینی چاہئے۔تبلیغ کر رہے ہیں اور دینی مسائل سیکھ رہے ہیں لیکن گھروں میں بے چینیاں ہیں تو اس سب علم اور تبلیغ کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔عورت کی نفسیات اور وہ کس طرح مرد کو دیکھ رہی ہوتی ہے، اس کے بارے میں بیان فرماتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ : " مرد کی ان تمام باتوں اور اوصاف کو عورت دیکھتی ہے۔وہ دیکھتی ہے کہ میرے خاوند میں فلاں فلاں اوصاف تقویٰ کے ہیں جیسے سخاوت، حلم، صبر اور جیسے اُسے " یعنی عورت کو " پر کھنے کا موقع ملتا ہے وہ کسی دوسرے کو نہیں مل سکتا۔گھر میں ہر روز دیکھ رہی ہوتی ہے۔فرمایا کہ " اسی لئے عورت کو سارق بھی کہا ہے کیونکہ یہ اندر ہی اندر اخلاق کی چوری کرتی رہتی ہے حتی کہ آخر کار ایک وقت پورا اخلاق حاصل کر لیتی ہے۔" فرماتے ہیں کہ ایک شخص کا