خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 228 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 228

خطبات مسرور جلد 15 228 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 19 مئی 2017 شخص خدا سے خود نہیں ڈرتا تو عورت اس سے کیسے ڈرے ؟ نہ ایسے مولویوں کا وعظ اثر کرتا ہے نہ خاوند کا۔ہر حال میں عملی نمونہ اثر کیا کرتا ہے۔" فرماتے ہیں کہ " بھلا جب خاوند رات کو اٹھ اٹھ کر دعا کرتا ہے، روتا ہے، تو عورت ایک دو دن تک دیکھے گی آخر ایک دن اسے بھی خیال آوے گا اور ضرور متاثر ہوگی۔" فرماتے ہیں کہ "عورت میں متاثر ہونے کا مادہ بہت ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔۔ان کی درستی کے واسطے کوئی مدرسہ بھی کفایت نہیں کر سکتا۔" عورتوں کو درست کرنے کے لئے کسی سکول کی ضرورت نہیں ہے، کسی ادارے کی ضرورت نہیں ہے۔"جتناخاوند کا عملی نمونہ کفایت کرتا ہے۔" اگر اصلاح کرنی ہے تو خاوند اپنی اصلاح کر لیں۔اپنے عملی نمونے دکھائیں تو ان کی اصلاح ہو جائے گی۔آپ فرماتے ہیں۔۔۔۔۔خدا نے مرد عورت دونو کا ایک ہی وجود فرمایا ہے۔یہ مر دوں کا ظلم ہے کہ وہ اپنی عورتوں کو ایسا موقع دیتے ہیں کہ وہ ان کا نقص پکڑیں۔ان کو چاہئے کہ عورتوں کو ہر گز ایسا موقع نہ دیں کہ وہ یہ کہہ سکیں کہ تُو فلاں بدی کرتا ہے۔" کبھی ایسا موقع مردوں کو نہیں دینا چاہئے کہ عورت یہ کہے کہ تم میں فلاں بدی ہے۔تم تو یہ بدیاں کرتے ہو۔بلکہ فرماتے ہیں کہ انسان کو اتنا پاک صاف ہونا چاہئے کہ "بلکہ عورت ٹکریں مار مار کر تھک جاوے اور کسی بدی کا اسے پتہ مل ہی نہ سکے تو اس وقت اس کو دینداری کا خیال ہوتا ہے اور وہ دین کو سمجھتی ہے۔" ( ملفوظات جلد 5 صفحہ 207-208) جب ایسی صورت ہو کہ تلاش کرنے کے باوجود مرد میں کوئی برائی نظر نہ آئے تو تب پھر عورت اگر دیندار نہیں بھی ہے تو دین کی طرف اس کی توجہ پیدا ہو گی۔یہاں تو میں نے دیکھا ہے کہ عورتیں زیادہ دیندار ہیں۔بعض دفعہ یہ شکایت کرتی ہیں کہ ہمارے خاوند کی دین کی طرف توجہ نہیں۔ایک طرف تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ان مردوں سے یہ توقعات ہیں جو آپ کی بیعت میں آئے اور دوسری طرف ہم دیکھتے ہیں کہ بہت سے مرد ہیں جیسا کہ میں نے کہا کہ جن کی شکایتیں عورتیں لے کر آتی ہیں کہ یہ مرد نماز میں سست ہیں۔باجماعت نماز تو علیحدہ رہی گھر میں بھی نماز نہیں پڑھتے۔دین کا علم مر دوں کا کمزور ہے۔چندوں میں کئی گھروں کے مرد کمزور ہیں۔ٹی وی پر لغو اور بیہودہ پر وگرام دیکھنے کی مردوں کی شکایات ہیں۔بچوں کی تربیت میں عدم تو جنگی کی شکایت مردوں کے بارے میں ہے۔اور اگر کبھی گھر کا سربراہ بننے کی کوشش کریں گے بھی، باپ بننے کی کوشش کریں گے تو سوائے ڈانٹ ڈپٹ اور مار دھاڑ کے کچھ نہیں ہوتا۔عورتیں مردوں سے سیکھنے کے بجائے بہت سے گھروں میں عورتیں مردوں کو سکھا رہی ہوتی ہیں یا ان کو توجہ دلا رہی ہوتی ہیں تاکہ بچے بگڑ نہ جائیں۔جن گھروں میں بھی بچے عدم تربیت کا شکار ہیں وہاں عموماً وجہ مردوں کی عدم توجہ یا بیوی اور بچوں پر بے جا سختی ہے۔کئی بچے بھی بعض دفعہ آ کے مجھے شکایت کر جاتے ہیں کہ ہمارے باپ کا