خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 227 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 227

خطبات مسرور جلد 15 227 مخطبه جمعه فرمودہ مورخہ 19 مئی 2017 کسا تھا۔اونچی آواز سے بولے تھے اور میں محسوس کرتا تھا کہ وہ بانگ بلند دل کے رنج سے ملی ہوئی ہے۔اونچی آواز میں بولے تھے اور خیال کیا کہ شاید اس میں دل کا کوئی رنج بھی شامل ہے اور بائیں ہمہ کوئی دلآزار اور درشت کلمہ منہ سے نہیں نکالا تھا۔اس کے علاوہ کوئی سختی کا کلمہ منہ سے نہیں نکالا تھا لیکن اس کے باوجو د بھی آپ فرماتے ہیں کہ اس کے بعد میں بہت دیر تک استغفار کرتا رہا اور بڑے خشوع و خضوع سے نفلیں پڑھیں اور کچھ صدقہ بھی دیا کہ یہ درشتی زوجہ پر کسی پنہانی معصیت الہی کا نتیجہ ہے۔(ماخوذ از ملفوظات جلد دوم صفحه 2-1) پس یہ ہے نمونہ آپ کا۔اور پھر کسی دوست کے سختی سے پیش آنے پر آپ نے بڑی فکر اور درد کا اظہار کیا نصیحت بھی فرمائی کہ وہ لوگ جو اپنی بیویوں سے ذرا ذراسی بات پر لڑتے جھگڑتے ہیں، ہاتھ اٹھاتے ہیں ان کو کچھ ہوش کرنی چاہئے۔یہ ہاتھ اٹھانا تو خیر علیحدہ رہا جیسا کہ میں نے کہا کہ زخمی بھی کر دیتے ہیں۔ان کے لئے تو بہت ہی فکر کا لمحہ ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق تو ان لوگوں کا پھر ایمان بھی کامل نہیں ہے۔ان کو اپنے ایمان کی فکر کرنی چاہئے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا جو ارشاد تھا اسی کی وجہ سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بھی فکر ہوئی کہ جس کے ایمان کا وہ اعلیٰ معیار نہیں ہے پھر تو وہ کئی جگہ ٹھو کر کھا سکتا ہے۔پس جیسا کہ میں نے کہا کہ یہ بظاہر چھوٹی نظر آنے والی باتیں ہیں لیکن یہ چھوٹی نہیں ہیں۔ان ملکوں میں تو پولیس تک معاملے چلے جاتے ہیں اور پھر جماعت کی بدنامی ہوتی ہے۔ایسے لوگ پھر دنیاوی سزا بھی بھگتے ہیں اور اللہ تعالی کی ناراضگی بھی مول لیتے ہیں۔بعض مرد کہہ دیتے ہیں کہ عورت میں فلاں فلاں برائی ہے جس کی وجہ سے ہمیں سختی کرنی پڑی۔اس پہلو سے مردوں کو پہلے اپنے جائزے لینے چاہئیں کہ کیا وہ دین کے معیار پر پورا اترنے والے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایسے ہی مر دوں کو نصیحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ : " مر د اگر پار سا طبع نہ ہو تو عورت کب صالحہ ہو سکتی ہے۔" پہلی شرط تو یہی ہے کہ مرد نیک ہو تبھی اس کی بیوی بھی صالحہ ہو گی۔فرمایا کہ "ہاں اگر مرد خود صالح بنے تو عورت بھی صالحہ بن سکتی ہے۔" فرمایا کہ " قول سے عورت کو نصیحت نہ دینی چاہئے بلکہ فعل سے اگر نصیحت دی جاوے تو اُس کا اثر ہوتا ہے۔" صرف باتوں کی نصیحت نہ کرو۔صرف ڈانٹ پھٹک نہ کرو بلکہ اپنے عمل سے یہ ثابت کرو کہ تم نیک ہو اور تمہارا ہر قدم خدا تعالیٰ کے حکموں پر چلنے والا ہے۔ایسی نصیحت جو عمل سے ہو گی تو فرمایا کہ اس کا اثر ہو تا ہے۔فرمایا کہ "عورت تو در کنار اور بھی کون ہے جو صرف قول سے کسی کی مانتا ہے۔"کوئی نہیں مانتا جب تک عمل نہ ہو۔" اگر مرد کوئی کبھی یا خامی اپنے اندر رکھے گا تو عورت ہر وقت کی اُس پر گواہ ہے۔فرمایا کہ۔۔۔۔۔جو