خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 226
خطبات مسرور جلد 15 226 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 19 مئی 2017 جو اللہ تعالی کے حق ہیں۔(بخاری کتاب الوتر باب ايقاظ النبي علي لا اله اهله بالوتر حدیث 997) (سنن ابی داؤد کتاب الصلوة باب قيام الليل حديث 1308) پھر آپ اپنے گھر والوں کے حق ادا کس طرح فرماتے تھے ؟ وہ کام جو بیویوں کے کرنے والے تھے ان میں بھی آپ ان کا ہاتھ بٹاتے تھے۔چنانچہ حضرت عائشہ یہی فرماتی ہیں کہ جتنا وقت آپ گھر پر ہوتے تھے گھر والوں کی مد داور خدمت میں مصروف رہتے تھے یہاں تک کہ آپ کو نماز کا بلاوا آتا اور آپ مسجد تشریف لے جاتے۔(صحيح البخاری کتاب الاذان باب من كان فى حاجة اهله۔۔۔الخ حديث 676) پس یہ ہے وہ اُسوہ جو ہم نے اپنانا ہے اور ہمیں اپنانا چاہئے۔نہ کہ بیویوں سے ایسا سلوک جو ظلم کے مترادف ہو۔حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا آپ کے گھریلو کاموں کی تفصیل بیان فرماتے ہوئے مزید فرماتی ہیں کہ اسی طرح آپ اپنے کپڑے بھی خو دسی لیتے تھے۔جو تے ٹانک لیا کرتے تھے۔گھر کاڈول وغیرہ مرمت کر لیا کرتے تھے۔(عمدة القاری شرح ص البخاری کتاب مواقيت الصلاة باب من كان فى حاجة اهله۔۔۔الخ حديث 676 جلد 5 صفحہ 298 مطبوعہ دار احیاء التراث العربی بیروت) پس ان نمونوں کو سامنے رکھتے ہوئے بہت سے خاوندوں کو اپنا محاسبہ کرنا چاہئے اور اس پر توجہ دینی چاہئے کہ کیا ان کے گھروں میں یہ سلوک ہیں؟ یہ روتے ہیں؟ اپنے صحابہ کو خاوند کے فرائض اور اس کے رویے کے معیار کے بارے میں ایک موقع پر فرمایا جو حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ مومنوں میں سے کامل الایمان وہ ہے جس کے اخلاق اچھے ہیں اور تم میں سے خُلق کے لحاظ سے بہترین وہ ہے جو اپنی عورتوں کے لئے بہتر ہے۔(سنن الترمذی ابواب الرضاع باب ما جاء في حق المرأة على زوجها حديث 1162) پس ہر اس شخص کو جس کا اپنی بیویوں سے اچھا سلوک نہیں ہے جائزہ لینا چاہئے کہ اچھے اخلاق اور بیویوں سے اچھے سلوک کا مظاہر ہ صرف ظاہری اچھا خُلق نہیں ہے۔بلکہ آپ نے فرمایا کہ ایمان کے معیار کی بلندی کی بھی نشانی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام خاوند کے فرائض اور بیویوں سے حسن سلوک کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ فحشاء کے سوا باقی تمام کج خلقیاں اور تلخیاں عورتوں کی برداشت کرنی چاہئیں اور فرمایا کہ ہمیں تو کمال بے شرمی معلوم ہوتی ہے کہ مرد ہو کر عورت سے جنگ کریں۔ہم کو خدا نے مرد بنایا ہے۔در حقیقت ہم پر اتمام نعمت ہے۔اس کا شکریہ یہ ہے کہ ہم عورتوں سے لطف اور نرمی کا برتاؤ کریں۔ایک دفعہ ایک دوست کی درشت مزاجی اور بد زبانی کا ذکر ہوا کہ وہ اپنی بیوی سے بڑا سختی سے پیش آتا ہے۔حضور علیہ السلام اس بات سے بہت رنجیدہ ہوئے بہت کبیدہ خاطر ہوئے۔اور فرمایا ہمارے احباب کو ایسا نہ ہونا چاہئے۔پھر تحریر کرنے والے لکھتے ہیں کہ اس کے بعد حضور علیہ السلام بہت دیر تک معاشرت نسواں کے بارے میں گفتگو فرماتے رہے۔اور آخر پر فرمایا کہ میرا یہ حال ہے کہ ایک دفعہ میں نے اپنی بیوی پر آوازہ