خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 222 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 222

خطبات مسرور جلد 15 222 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 12 مئی 2017 جس میں آپ نے فرمایا کہ : " دنیوی لوگ اسباب پر بھروسہ کرتے ہیں۔" ظاہری چیزوں پر بھروسہ کرتے ہیں "مگر اللہ تعالیٰ اس بات کے لئے مجبور نہیں ہے کہ اسباب کا محتاج ہو۔کبھی چاہتا ہے تو اپنے پیاروں کے لئے بلا اسباب بھی کام کر دیتا ہے اور کبھی اسباب پیدا کر کے کرتا ہے اور کسی وقت ایسا بھی ہوتا ہے کہ بنے بنائے اسباب کو بگاڑ دیتا ہے۔" فرمایا غرض اپنے اعمال کو صاف کرو۔" ہمیں نصیحت فرمائی کہ اپنے اعمال کو صاف کرو اور خدا تعالیٰ کا ہمیشہ ذکر کر و اور غفلت نہ کرو۔جس طرح بھاگنے والا شکار جب ذراست ہو جاوے تو شکاری کے قابو میں آجاتا ہے اسی طرح خدا تعالیٰ کے ذکر سے غفلت کرنے والا شیطان کا شکار ہو جاتا ہے۔" پس یہ مثال سامنے رکھو کہ جہاں شکار جو شکاری سے ڈر کے دوڑتا ہے اگر سست ہو تو شکاری کے قابو میں آجاتا ہے۔اسی طرح انسان اگر اپنی عبادتوں میں ، دعاؤں میں ، اللہ تعالیٰ سے مدد مانگنے میں غفلت کرے گا تو پھر شیطان کا شکار ہو سکتا ہے۔فرمایا کہ " تو بہ کو ہمیشہ زندہ رکھو۔" یہ ضرور یاد رکھو کہ تو بہ کو ہمیشہ زندہ رکھو اور کبھی مردہ نہ ہونے دو۔" استغفار بہت زیادہ کیا کرو کیونکہ جس عضو سے کام لیا جاتا ہے وہی کام دے سکتا ہے اور جس کو بیکار چھوڑ دیا جاوے پھر وہ ہمیشہ کے واسطے ناکارہ ہو جاتا ہے۔اسی طرح تو بہ کو بھی متحرک رکھو تا کہ وہ بیکار نہ ہو جاوے۔" فرمایا کہ " اگر تم نے سچی توبہ نہیں کی تو وہ اس بیچ کی طرح ہے جو پتھر پر بویا جاتا ہے۔اور اگر وہ سچی توبہ ہے تو وہ اس بیچ کی طرح ہے جو عمدہ زمین میں بویا گیا ہے اور اپنے وقت پر پھل لاتا ہے۔" فرمایا کہ " آجکل اس تو بہ میں بڑی بڑی مشکلات ہیں۔۔۔" وہاں قادیان میں آئے ہوئے کچھ لوگوں کو آپ یہ نصیحت فرمارہے تھے کہ جب تم یہاں سے جاؤ گے تو تمہیں بہت کچھ لوگوں سے سننا پڑے گا۔لوگ بڑی باتیں کریں گے کہ تم نے ایک مجذوم، کافر ، دجال وغیرہ کی بیعت کی ہے۔فرمایا کہ " ایسا کہنے والوں کے سامنے جوش ہر گز مت دکھانا۔ہم تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے صبر کے واسطے مامور کئے گئے ہیں۔اس لئے چاہئے کہ تم ان کے لئے دعا کرو کہ خدا تعالیٰ ان کو بھی ہدایت دے۔اور جیسے کہ تم کو امید ہے کہ وہ تمہاری باتوں کو ہر گز قبول نہ کریں گے تم بھی ان سے منہ پھیر لو۔" فرمایا " ہمارے غالب آنے کے ہتھیار استغفار ، توبہ، دینی علوم کی واقفیت، خدا تعالیٰ کی عظمت کو مد نظر رکھنا اور پانچوں وقت کی نمازوں کو ادا کرنا ہیں۔نماز دعا کی قبولیت کی کنجی ہے۔جب نماز پڑھو تو اس میں دعا کرو اور غفلت نہ کرو اور ہر ایک بدی سے خواہ وہ حقوق الہی کے متعلق ہو خواہ حقوق العباد کے متعلق ہو ، بچو۔" (ملفوظات جلد 5 صفحہ 303) پس ہمارا کام یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سے تعلق پیدا کریں اور اس کے حکموں پر چلنے کی کوشش ہمیشہ کرتے رہیں۔اس کی راہ میں قربانیوں کو صبر اور استقامت سے برداشت کرنے والے ہوں۔اللہ تعالیٰ ہمیں صبر اور دعا کے