خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 221 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 221

خطبات مسرور جلد 15 221 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 12 مئی 2017 ہمارے پاس دلیل نہیں تھی شاید اس لئے ہم سختی سے جواب دے رہے ہیں حالانکہ یہ غلط ہے۔جیسا کہ میں نے کہا تھا کہ گالیوں کا جواب گالیوں سے دینے کا مطلب ہی یہ ہے کہ ہمارے پاس دلیل نہیں ہے۔پس ایسے لوگوں کو فوری طور پر اپنے رویے بدلنے کی ضرورت ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بار بار مختلف طریقوں سے ہمیں سمجھایا کہ ہمیں صبر کا دامن پکڑے رہنا چاہئے اور اس وقت بھی میں آپ کے سامنے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک اقتباس پیش کرتا ہوں۔میں یہ بار بار اس لئے رکھ رہا ہوں تا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم سب پر واضح ہو جائے۔فرمایا کہ : یہ مجھے گالیاں دیتے ہیں لیکن میں اُن کی گالیوں کی پرواہ نہیں کرتا اور نہ اُن پر افسوس کرتاہوں کیونکہ وہ اس مقابلہ سے عاجز آگئے ہیں اور اپنی عاجزی اور فروما ئیگی کو بجز اس کے نہیں چھپاسکتے کہ گالیاں دیں۔دلیل ان کے پاس رہی نہیں۔عاجز آچکے ہیں اور اس لئے دلیل نہ ہونے کی وجہ سے وہ گالیاں دیتے ہیں۔فرمایا کہ "کفر کے فتوے لگائیں۔جھوٹے مقدمات بنائیں اور قسم قسم کے افتراء اور بہتان لگائیں۔وہ اپنی ساری طاقتوں کو کام میں لا کر میرا مقابلہ کر لیں اور دیکھ لیں کہ آخری فیصلہ کس کے حق میں ہوتا ہے۔میں ان کی گالیوں کی اگر پر واہ کروں تو وہ اصل کام جو خدا تعالیٰ نے مجھے سپر د کیا ہے رہ جاتا ہے۔اس لئے جہاں میں ان کی گالیوں کی پرواہ نہیں کرتا میں اپنی جماعت کو نصیحت کرتا ہوں کہ ان کو مناسب ہے کہ ان کی گالیاں سن کر برداشت کریں اور ہر گز ہر گز گالی کا جواب گالی سے نہ دیں کیونکہ اس طرح پر برکت جاتی رہتی ہے۔وہ صبر اور برداشت کا نمونہ ظاہر کریں اور اپنے اخلاق دکھائیں۔یقیناً یا در کھو کہ عقل اور جوش میں خطرناک دشمنی ہے۔جب جوش اور غصہ آتا ہے تو عقل قائم نہیں رہ سکتی۔لیکن جو صبر کرتا ہے اور بردباری کا نمونہ دکھاتا ہے اس کو ایک نور دیا جاتا ہے جس سے اس کی عقل و فکر کی قوتوں میں ایک نئی روشنی پیدا ہو جاتی ہے اور پھر نور سے نور پیدا ہوتا ہے۔غصہ اور جوش کی حالت میں چونکہ دل و دماغ تاریک ہوتے ہیں اس لئے پھر تاریکی سے تاریکی پیدا ہوتی ہے۔" (ملفوظات جلد 3 صفحہ 180) پس اگر عقل و فکر کی قوتوں میں اضافہ کرنا ہے ، دل و دماغ میں نور پیدا کرنا ہے تو غصہ اور جوش کو ہمیں ہر وقت دبانے کی ضرورت ہے تبھی اللہ تعالیٰ کے فضل مزید بڑھیں گے۔جماعت احمدیہ کی ترقی کسی جوش اور غضب کے ظاہر کرنے سے نہیں ہوئی۔اب تک جو ترقی ہو رہی ہے یہ تو اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ اس نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو غلبہ دینا ہے۔پس جب غلبہ اس نے دینا ہے اور اس کام میں برکت اس نے ہی ڈالنی ہے جو ہم تبلیغ کا بھی اور دوسرا کرتے ہیں تو پھر ہمیں اللہ تعالیٰ کی رضا کو حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ہمیں ہمیشہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اس بات کو سامنے رکھتے ہوئے اپنی زندگی گزارنی چاہئے