خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page xxiv of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page xxiv

xvi خطبات مسرور جلد 15 خلاصہ خطبات کہ قائد اعظم یونیورسٹی میں فزکس ڈیپارٹمنٹ کا نام ڈاکٹر عبد السلام صاحب کے نام پر رکھا جائے کیونکہ وہ کافر ہیں۔وہ ختم نبوت پر یقین نہیں رکھتے۔ان کو یہ سوچنا چاہئے جس نے یہ نام رکھا ہے وہ بھی تو خود ان کی اپنی ہی پارٹی کے وزیر اعظم تھے اور صدر تھے۔اور یہی نہیں بلکہ اس ممبر اسمبلی کے سسر بھی ہیں۔اس وقت کیوں نہ غیرت دکھائی اور اس وقت کیوں نہ غیرت کا اظہار کیا جب یہ سب کچھ رکھا جارہا تھا۔اگر پاکستان کی اسمبلی یہ نام بدلنا چاہتی ہے تو بڑی خوشی سے بدلے۔سلام خاندان کو یا جماعت احمدیہ کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔پھر کہتے ہیں کہ احمدیوں کو فوج میں بھرتی نہیں کرنا چاہئے۔آج تک کی پاکستان کی تاریخ تو یہ بتاتی ہے کہ جتنے احمدی بھی فوج میں گئے انہوں نے ملک کی خاطر ہر قربانی دی۔عام طور پر سپاہی یا جونیئر کمشنڈ افسر یا زیادہ سے زیادہ کر نل میجر تک کے لوگ قربانیاں دیتے ہیں۔لیکن احمدی وہ ہیں جن کے لوگ جنرل کے رینک تک بھی پہنچے تو اگلے مورچوں پر رہے اور شہید بھی ہوئے تو احمدی جنرل۔اسی طرح احمدیوں پر یہ اعتراض کئے جاتے ہیں کہ یہ قوم کی خدمت نہیں کرتے۔یہ قوم کے وفادار نہیں ہیں۔لیکن میں پورے وثوق سے یہ کہہ سکتا ہوں کہ آج پاکستان میں احمدی ہی ہیں جو حُب الوطن من الایمان پر یقین رکھتے ہیں اور اس پر عمل کرتے ہیں۔اپنا جان مال قربان کرنے والے ہیں اور کر رہے ہیں۔سیاسی دکانداری چمکانے کے لئے صرف تقریریں کرنے والے نہیں ہیں اور نہ ہمارا سیاست سے کوئی تعلق ہے۔ہم مذہب کی خاطر جان دینے والے تو ہیں لیکن مذہب کے نام پر سیاست چمکانے والے اور مذہب کے نام پر خون کرنے والے نہیں ہیں۔ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبیین مانتے ہیں اور دل سے مانتے ہیں اور آپ کی ناموس کی خاطر ہر قربانی دیتے ہیں اور دینے کے لئے تیار ہیں اور دے رہے ہیں اور انشاء اللہ دیتے رہیں گے۔ہر پاکستانی احمدی کا یہ فرض بنتا ہے کہ یہ دعا کر تا رہے کہ اللہ تعالیٰ اس ملک کو جس کی خاطر احمدیوں نے بڑی قربانیاں بھی دی ہیں اور ابتدا سے لے کر اب ستک قربانیاں دے رہے ہیں، اللہ تعالیٰ اسے ہمیشہ سلامت رکھے اور ظالم جابر لیڈروں اور مفاد پرست علماء سے اسے بچائے اور دنیا کے آزاد اور باوقار ملکوں میں پاکستان کا بھی شمار ہونے لگے۔خطبہ:42 مورخه : 20 اکتوبر بمقام: بیت الفتوح لندن 505-517:30 خلاصہ: آج ہم دیکھتے ہیں تو سب سے زیادہ فساد کی حالت مسلمان ممالک میں ہے۔مسلمان گروہوں میں ہے۔ایک دوسرے کی گردنیں کاٹنے پر سر گرم ہیں۔ہر ایک لا الہ الا اللہ تو پڑھتا ہے اور دوسرے لا الہ الا اللہ پڑھنے والے کا خون کرتا ہے۔اس کا حق مارتا ہے۔کسی بھی ذریعہ سے اس کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتا ہے۔کیا یہی قرآن کریم کی تعلیم ہے جس پر یہ لوگ عمل کر رہے ہیں ؟ کیا یہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اُسوہ ہے جس کی یہ لوگ پیروی کر رہے ہیں ؟ آجکل تو ہم دیکھتے ہیں کہ ہر جگہ دنیاداری غالب ہے۔اگر مذہب کا نام بھی لیتے ہیں تو سیاست چمکانے کے لئے اور اپنے زعم میں اپنی حکومتیں قائم کرنے کے لئے یا بچانے کے لئے۔کیا اللہ تعالیٰ جس سے محبت کرے اس کا یہی حال ہوتا ہے جو آجکل کے مسلمانوں کا ہے۔علماء جن کو عامتہ المسلمین عام طور پر اللہ تعالیٰ کا پیلا سمجھتے ہیں، اس کے قریب سمجھتے ہیں، وہ سب سے زیادہ دنیا میں فساد پیدا کر رہے ہیں۔اب تو خود پاکستان میں بعض تجزیہ نگار اور کالم نویس اخباروں میں بھی لکھنے لگ گئے ہیں دوسرے میڈیا پر بھی کہنے لگ گئے ہیں کہ مسلمانوں کی یہ حالت ان نام نہاد علماء نے ایسی کر دی ہے۔پس اس وقت مسلمان علماء کی عمومی حالت اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ کوئی قرآن اور سنت کی حقیقت بتانے والا ہو اور وہ اللہ تعالیٰ نے اپنے وعدہ کے مطابق بھیج دیا ہے۔لیکن علماءنہ خود اس کی بات سننا چاہتے ہیں ، نہ عوام کو سننے دیتے ہیں۔بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنے والے کے خلاف کفر کے فتوے دے کر ایک عمومی خوف وہر اس اور فتنہ وفساد کی صورت پیدا کر دی ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلواۃ و السلام کے ارشادات کے حوالہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارفع و اعلیٰ مقام اور آپ