خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 218 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 218

خطبات مسرور جلد 15 218 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 12 مئی 2017 نہیں ہو۔ان پر اس قسم کی مشکلات اور مصائب آئیں اور یہ اسی لئے آتی ہیں کہ خدا تعالیٰ پر ایمان قوی ہو اور پاک تبدیلی کا موقعہ ملے۔دعاؤں میں لگے رہو۔پس یہ ضروری ہے کہ تم انبیاء ورسل کی پیروی کرو اور صبر کے طریق کو اختیار کرو۔تمہارا کچھ بھی نقصان نہیں ہوتا۔وہ دوست جو تمہیں قبولِ حق کی وجہ سے چھوڑتا ہے وہ سچا دوست نہیں ہے۔" اس کی وجہ سے فکر کرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ وہ تمہارا سچا دوست نہیں ہے "ور نہ چاہئے تھا کہ تمہارے ساتھ ہو تا۔تمہیں چاہئے کہ وہ لوگ جو محض اس وجہ سے تمہیں چھوڑتے اور تم سے الگ ہوتے ہیں کہ تم نے خدا تعالیٰ کے قائم کردہ سلسلہ میں شمولیت اختیار کر لی ہے ان سے دنگا یا فساد مت کرو بلکہ ان کے لئے غائبانہ دعا کرو۔" ہمارا رویہ پھر بھی یہی ہو کہ دوسرے دشمنی کر رہے ہیں تو ہم نے ان کے پیچھے ان کے لئے دعا کرنی ہے۔فرمایا یہ دعا کرو کہ اللہ تعالیٰ ان کو بھی وہ بصیرت اور معرفت عطا کرے جو اس نے اپنے فضل سے تمہیں دی ہے۔تم اپنے پاک نمونہ اور عمدہ چال چلن سے ثابت کر کے دکھاؤ کہ تم نے اچھی راہ اختیار کی ہے۔" ( ملفوظات جلد 7 صفحہ 203) احمدیت قبول کر کے کوئی جرم نہیں کیا کوئی گناہ نہیں کیا کسی گند میں نہیں گئے بلکہ یہ اچھا رستہ ہے جو تم نے اختیار کیا۔پس یہ وہ رد عمل ہے جو ان حملوں کے بعد ہم نے دکھانا ہے اور ہمیں دکھانا چاہئے۔بیشک قانونی چارہ جوئی ہم کرتے ہیں۔دعا بھی ان کی اصلاح کے لئے کرتے ہیں۔لیکن ساتھ ہی جو مجرم ہیں ان کے لئے قانونی چارہ جوئی بھی کرتے ہیں اور کریں گے۔یہ بھی اللہ تعالیٰ کا حکم ہے لیکن کبھی صبر کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑتے اور نہ چھوڑیں گے اور نہ چھوڑنا چاہئے اور ہر مصیبت اور مشکل میں اللہ تعالیٰ کے آگے ہی ہم جھکتے ہیں اور اسی کے آگے جھکیں گے انشاء اللہ۔لیکن بعض دفعہ بعض لوگوں کے بارے میں مجھے شکایات ملتی ہیں کہ ان کو ایسی مشکلات بھی نہیں، یہاں بیٹھے ہوئے ہیں اور یہاں ان کو تبلیغ کے مواقع بھی میسر آتے ہیں۔وہ بعض دفعہ براہ راست تبلیغ کرتے ہوئے بعض لوگوں کو یا سوشل میڈیا پر مولویوں کو تبلیغ کرتے ہوئے یا بعض دفعہ ان سے مناظرہ کرتے ہوئے ایسی سخت زبان استعمال کرتے ہیں جو احمدی کے شایان شان نہیں ہے۔اور بعض لکھنے والے مجھے لکھتے ہیں کہ احمدیوں کے منہ سے ایسی گندی گالیاں اور ایسی گفتگو سن کر بڑی پریشانی ہوتی ہے جو ان لوگوں کے منہ سے اپنے مخالفین کے لئے، غیر احمدی مولویوں کے لئے یا جس سے مناظرہ کر رہے ہوتے ہیں اس کے لئے نکل رہی ہوتی ہیں۔بہر حال یہ باتیں کسی طرح بھی ایک احمدی کو زیب نہیں دیتیں۔اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ یہ کہاں تک سچ ہے۔میں نے خود تو نہیں دیکھا لیکن مجھے لکھنے والوں نے لکھا کہ جب ایسی گفتگو ہوتی ہے تو احمدیوں کے مقابلہ میں غیر احمدیوں کی زبان زیادہ نرم ہوتی ہے۔اگر تو یہ بات سچ ہے تو پھر میں ایسے احمدیوں سے کہوں گا کہ بہتر ہے وہ تبلیغ نہ کیا کریں۔یہ تبلیغ ان کو اللہ تعالی کا