خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 219 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 219

خطبات مسرور جلد 15 219 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 12 مئی 2017 قرب دلانے کے بجائے اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا موجب بنانے والی ہو گی۔جیسا کہ حدیث میں بیان ہوا ہے اللہ تعالیٰ کو تو صبر اور غصہ کا گھونٹ پینے والا پسند ہے۔ہم تو اعلان ہی یہ کرتے ہیں کہ غصہ آتا ہی انہیں ہے جن کے پاس کوئی دلیل نہ ہو۔پس اگر ہمارے پاس دلیل ہے تو غصہ کا پھر کوئی جواز نہیں ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اس بات کو ہمیشہ یادرکھنا چاہئے۔آپ فرماتے ہیں کہ : "دیکھو میں اس امر کے لئے مامور ہوں کہ تمہیں بار بار ہدایت کروں کہ ہر قسم کے فساد اور ہنگامہ کی جگہوں سے بچتے رہو اور گالیاں سن کر بھی صبر کرو۔بدی کا جواب نیکی سے دو اور کوئی فساد کرنے پر آمادہ ہو تو بہتر ہے کہ تم ایسی جگہ سے کھسک جاؤ اور نرمی سے جواب دو۔بارہا ایسا ہوتا ہے کہ ایک شخص بڑے جوش کے ساتھ مخالفت کرتا ہے اور مخالفت میں وہ طریق اختیار کرتا ہے جو مفسدانہ طریق ہو جس سے سننے والوں میں اشتعال کی تحریک ہو۔لیکن جب سامنے سے نرم جواب ملتا ہے اور گالیوں کا مقابلہ نہیں کیا جاتا تو خود اسے شرم آجاتی ہے۔تو ہمارے لئے تو یہ تعلیم ہے کہ گالیاں بھی ہیں تو نرمی سے جواب دو۔فرمایا کہ "خود اسے شرم آجاتی ہے اور وہ اپنی حرکت پر نادم اور پشیمان ہونے لگتا ہے۔کئی دفعہ ایسے واقعات ہوئے ہیں کہ جن مخالفین کی نیک فطرت تھی ان کو شرم آئی۔فرمایا کہ "میں تمہیں سچ سچ کہتا ہوں کہ صبر کو ہاتھ سے نہ دو۔صبر کا ہتھیار ایسا ہے کہ تو پوں سے وہ کام نہیں نکلتا جو صبر سے نکلتا ہے۔صبر ہی ہے جو دلوں کو فتح کر لیتا ہے۔یقین یا د رکھو کہ مجھے بہت ہی رنج ہوتا ہے جب میں یہ سنتا ہوں کہ فلاں شخص اس جماعت کا ہو کر کسی سے لڑا ہے۔اس طریق کو میں ہر گز پسند نہیں کرتا اور خدا تعالیٰ بھی نہیں چاہتا کہ وہ جماعت جو دنیا میں ایک نمونہ ٹھہرے گی وہ ایسی راہ اختیار کرے جو تقویٰ کی راہ نہیں ہے۔بلکہ میں تمہیں یہ بھی بتادیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ یہاں تک اس امر کی تائید کرتا ہے کہ اگر کوئی شخص اس جماعت میں ہو کر صبر اور برداشت سے کام نہیں لیتا تو وہ یاد رکھے کہ وہ اس جماعت میں داخل نہیں ہے۔" فرمایا کہ "نہایت کار اشتعال اور جوش کی یہ وجہ ہو سکتی ہے " اگر کوئی بہت زیادہ غصہ دلائے اور جس سے جوش پیدا ہو یا اشتعال پیدا ہو تو اس کی یہی وجہ ہو سکتی ہے " کہ مجھے گندی گالیاں دی جاتی ہیں۔تو اس معاملہ کو خدا کے سپر د کر دو۔تم اس کا فیصلہ نہیں کر سکتے۔میرا معاملہ خدا پر چھوڑ دو۔تم ان گالیوں کو سن کر بھی صبر اور برداشت سے کام لو۔تمہیں کیا معلوم ہے کہ میں ان لوگوں سے کس قدر گالیاں سنتا ہوں۔اکثر ایسا ہوتا ہے کہ گندی گالیوں سے بھرے ہوئے خطوط آتے ہیں اور کھلے کارڈوں میں گالیاں دی جاتی ہیں۔بے رنگ خطوط آتے ہیں جن کا محصول بھی دینا پڑتا ہے اور پھر جب پڑھتے ہیں تو گالیوں کا طومار ہوتا ہے۔ایسی فحش گالیاں ہوتی ہیں کہ میں یقیناً جانتا ہوں کہ کسی پیغمبر کو بھی ایسی گالیاں نہیں دی گئی ہیں اور میں اعتبار نہیں کرتا کہ ابو جہل میں بھی ایسی گالیوں کا مادہ ہو۔لیکن یہ سب کچھ سننا پڑتا ہے۔جب میں صبر کرتا ہوں تو تمہارا فرض ہے کہ تم بھی صبر کرو۔درخت سے بڑھ کر تو