خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 217 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 217

خطبات مسرور جلد 15 217 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 12 مئی 2017 ہیں۔ابھی تک جیل میں تو نہیں بھیج لیکن کسی وقت بھی پکڑ کر ان کو جیل میں بھیجا جا سکتا ہے۔مختلف قسم کی پابندیاں صرف اس لئے عائد ہیں کہ وہاں بھی مُلاں کو احمدیت کی ترقی کھٹک رہی ہے اور ان سے یہ برداشت نہیں ہو رہا۔اسی طرح بنگلہ دیش میں مسلسل مخالفت چلتی رہتی ہے۔انڈونیشیا میں چلتی ہے۔عرب ممالک میں چلتی ہے۔لیکن گزشتہ دنوں بنگلہ دیش میں ایک جگہ جس کا نام شوھاگی ہے۔ضلع میمن سنگھ کا یہ قصبہ ہے۔یہاں کی ہماری مسجد پر مولویوں نے حملہ کیا اور ہمارے مربی مستفیض الرحمن صاحب کو چاقوؤں کے وار کر کر کے ، خنجروں کے وار کر کے شدید زخمی کر دیا۔اتنے کاری اور شدید وار چاقو کے ساتھ یا خنجر کے ساتھ کئے کہ سارا جسم ان کا چھلنی کر دیا۔پیٹ میں بھی ایسی جگہ وار ہوئے۔کہتے ہیں کہ ان کا گردہ بھی باہر آگیا۔گردن پر وار تھے۔بس شہ رگ کٹنے سے بیچ گئی۔لیکن دیکھنے والے بتاتے ہیں کہ ہر جگہ سے خون کے فوارے نکل رہے تھے۔بہر حال پولیس موقع پر پہنچ گئی۔وہ آئی اور حملہ آوروں سے نکال کر انہیں لے گئی اور ہسپتال پہنچایا۔جماعت کے افراد بھی پہنچ گئے۔خدام فوراً پہنچے جنہوں نے خون دیا۔اللہ تعالیٰ نے فضل فرمایا کہ میڈیکل ایڈ پہنچ گئی۔ہسپتال پہنچ گئے جہاں اچھے ڈاکٹر بھی تھے اور اچھا علاج بھی ہو تا رہا۔کئی گھنٹے کا ان کا آپریشن ہوا۔بہر حال کل تک کی جو اطلاع ہے اس کے مطابق stable تو ہیں لیکن ابھی حالت خطرے سے باہر نہیں۔گو کہ تھوڑی سی ہوش میں بھی آگئے ہیں اور ہوش میں آنے کے بعد بول تو نہیں سکتے تھے لیکن کاغذ قلم لے کر انہوں نے لکھ کر جو باتیں کی ہیں اس میں بھی یہی لکھ کر دیا کہ فلاں مربی صاحب کی حفاظت کا انتظام رکھیں کیونکہ ان کو بھی خطرہ ہے یا اپنے والدین کی فکر کا اظہار کیا اور اس تکلیف میں سے گزرنے کے باوجو د بھی ایک مومن کی شان ہے کہ دوسروں کی فکر ہے۔اللہ تعالیٰ ان کو صحت و سلامتی والی لمبی زندگی بھی عطا فرمائے اور کامل اور جلد شفا عطا فرمائے۔بہر حال مخالفتوں کے بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے پہلے ہی ہمیں یہ بتا دیا تھا کہ اگر احمدیت قبول کی ہے تو ان سختیوں سے بھی گزرنا پڑے گا۔چنانچہ ایک موقع پر اس بات کو بیان فرماتے ہوئے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : " ہماری جماعت کے لئے بھی اسی قسم کی مشکلات ہیں جیسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت مسلمانوں کو پیش آئے تھے۔چنانچہ نئی اور سب سے پہلی مصیبت تو یہی ہے کہ جب کوئی شخص اس جماعت میں داخل ہوتا ہے تو معأ دوست، رشتہ دار اور برادری الگ ہو جاتی ہے یہاں تک کہ بعض اوقات ماں باپ اور بھائی بہن بھی دشمن ہو جاتے ہیں۔السلام علیکم تک کے روادار نہیں رہتے اور جنازہ پڑھنا نہیں چاہتے۔اس قسم کی بہت سی مشکلات پیش آتی ہیں۔" فرمایا کہ "میں جانتا ہوں کہ بعض کمزور طبیعت کے آدمی بھی ہوتے ہیں اور ایسی مشکلات پر وہ گھبرا جاتے ہیں۔لیکن یاد رکھو کہ اس قسم کی مشکلات کا آنا ضروری ہے۔تم انبیاء ورسل سے زیادہ