خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 214 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 214

خطبات مسرور جلد 15 214 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 12 مئی 2017 آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مسلمان کو جو بھی تھکاوٹ ، بیماری، بے چینی، تکلیف اور غم پہنچتا ہے یہاں تک کہ اگر اس کو کوئی کانٹا بھی چبھتا ہے تو اس کے بدلے میں اللہ تعالیٰ اس کی بعض خطائیں معاف کر دیتا ہے۔(صحيح البخاري كتاب المرضى باب ما جاء في كفارة المرض حديث 5641) پس یہ ہے ہمارا وہ رحیم و کریم خداجو ایک مومن کو ذرا ذراسی بات پر نوازتا ہے۔ایک صابر اور اللہ تعالیٰ کے حضور جھکنے والے مومن کے لئے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے خوشخبریاں ہی خوشخبریاں ہیں۔پھر ایک اور موقع پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں صبر اور دعا کی اہمیت بتاتے ہوئے اور اس کے بدلے میں اللہ تعالیٰ کے سلوک کا ذکر فرماتے ہوئے فرمایا کہ اللہ کی راہ میں بہنے والا قطرہ خون اور رات کے وقت نفل پڑھتے ہوئے خشیت باری تعالیٰ کے نتیجہ میں آنکھ سے ٹپکنے والے قطرے سے زیادہ کوئی قطرہ اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں اور نہ ہی اللہ تعالیٰ کو کوئی گھونٹ غم کے اس گھونٹ سے زیادہ پسند ہے جو انسان صبر کر کے پیتا ہے۔یعنی انسان کی مشکلات کے وقت غم کی جو حالت ہوتی ہے اس پر جب انسان صبر کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی خاطر صبر کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ کو وہ صبر بے انتہا پسند آتا ہے۔اور فرمایا اور اسی طرح اللہ تعالیٰ کو غصہ کے گھونٹ سے زیادہ کوئی گھونٹ پسند نہیں ہے جو غصہ دبانے کے نتیجہ میں انسان پیتا ہے۔غصہ کرنے والا گھونٹ نہیں، غصہ دبانے والا گھونٹ اللہ تعالی کو پسند ہے۔(مصنف ابن ابی شیبه جلد 8 صفحه 141 كتاب الزهد باب ما ذكر عن نبينا الله في الزهد حديث 108 مطبوعه دارالفکر بیروت) بہت سے مواقع آتے ہیں انسان غصہ دباتا ہے، صبر کرتا ہے اور صرف اللہ تعالیٰ کی خاطر صبر کرتا ہے تو اس سے وہ اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے والا بنتا ہے۔بس چاہے ذاتی معاملات ہوں جن کی وجہ سے کسی سے نقصان پہنچ رہا ہو یا جماعتی معاملات ہوں اگر اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنی ہے، اگر اللہ تعالیٰ کا پیار حاصل کرنا ہے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ اصول بیان فرما دیا کہ اللہ تعالیٰ کے آگے جھکنا اور صبر کا مظاہرہ کرنا اللہ تعالیٰ کا قرب دلاتا ہے۔اور ایک روایت میں آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے مقرب بندوں کے لئے بڑی غیرت رکھتا ہے اور دشمن کو پکڑتا ہے جو اس کو تکلیف اور نقصان پہنچانے والے ہوتے ہیں۔(صحيح البخارى كتاب الرقاق باب التواضع حديث 6502) پس جس معاملے کو اللہ تعالیٰ اپنے ہاتھ میں لیوے اس کو بندے کو اپنے ہاتھ میں لینے کی کیا ضرورت ہے۔بلکہ یہی نہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنی طرف جھکنے والوں اور صبر کرنے والوں کے دشمنوں سے بدلہ لیتا ہے بلکہ ایک موقع پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب بندے پر ظلم کیا جائے اور وہ صبر سے کام لے تو اللہ تعالیٰ اسے عزت بخشتا ہے۔(سنن الترمذی ابواب الزهد باب ما جاء مثل الدنيا مثل اربعة نفر حديث 2325) اور جسے خدا تعالیٰ عزت بخشے اس سے بڑا ایک بندے کے لئے کیا اعزاز ہو سکتا ہے۔پس آجکل جماعت