خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 215
خطبات مسرور جلد 15 215 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 12 مئی 2017 احمدیہ کے افراد پر مختلف ممالک میں جو سختی، پریشانی اور تکلیف کے حالات ہیں اس پر ہمارا کام ہے کہ صبر اور دعا کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی مدد مانگتے ہوئے اس کے آگے جھکیں۔وہی ہے جو ائمۃ الکفر کو پکڑ کر ہمیں ان سے بچانے کی، ان کے مکروں سے بچانے کی، ان کی تدبیروں سے بچانے کی سب سے زیادہ طاقت رکھتا ہے اور جماعت کی تاریخ میں ہم یہی دیکھتے آئے ہیں کہ دشمن اپنی تمام تر طاقتوں اور وسائل کے باوجو د بھی ناکام و نامراد ہی ہوا ہے اور جماعت کا قدم آگے ہی بڑھتا چلا گیا ہے۔مشکلات اور تکلیفوں کے دور سے جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کو بھی گزرنا پڑا اور ان سے گزر کر ہی پھر کامیابیاں ملیں تو ہم کیا چیز ہیں جو بغیر کسی تکلیف برداشت کئے کامیابیاں حاصل کر لیں گے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس تکلیف دہ دور کا ذکر کرتے ہوئے ایک جگہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : " 13 برس کا زمانہ کم نہیں ہوتا۔اس عرصہ میں آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے جس قدر دکھ اٹھائے ان کا بیان بھی آسان نہیں ہے۔قوم کی طرف سے تکالیف اور ایذا رسانی میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی جاتی تھی۔" فرمایا کہ " اور ادھر اللہ تعالیٰ کی طرف صبر و استقلال کی ہدایت ہوتی تھی۔" ایک طرف تو قوم تکلیفوں پر تکلیفیں دیئے چلی جارہی ہے دوسری طرف اللہ تعالیٰ کا حکم یہ تھا کہ صبر کرو اور استقلال دکھلاؤ۔فرماتے ہیں کہ " اور بار بار حکم ہو تا تھا کہ جس طرح پہلے نبیوں نے صبر کیا ہے تو بھی صبر کر اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کمال صبر کے ساتھ ان تکالیف کو برداشت کرتے تھے اور تبلیغ میں سست نہ ہوتے تھے بلکہ قدم آگے ہی پڑتا تھا۔" فرمایا " اور اصل یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا صبر پہلے نبیوں کا سانہ تھا کیونکہ وہ تو ایک محدود قوم کے لئے مبعوث ہو کر آئے تھے اس لئے ان کی تکالیف اور ایذارسانیاں بھی اسی حد تک محدود ہوتی تھیں۔لیکن اس کے مقابلہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا صبر بہت ہی بڑا تھا کیونکہ سب سے اول تو اپنی ہی قوم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالف ہو گئی اور ایذارسانی کے درپے ہوئی اور پھر عیسائی بھی دشمن ہو گئے۔" ( ملفوظات جلد 7 صفحہ 198-199) پس جب ہم اس شخص کی بیعت میں آکر جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی میں اسلام کی نشاۃ ثانیہ کے لئے آیا ہے اور تمام مذاہب پر اسلام کی برتری ثابت کرنے کے لئے آیا ہے اور مسلمانوں کی بھی جو فرقہ بندیاں ہیں انہیں ختم کر کے ایک ہاتھ پر جمع کر کے امت واحدہ بنانے کے لئے آیا ہے تو ہمیں بھی اپنوں اور غیروں، سب کی مخالفتوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔غیر تو اس وقت دنیا کے اکثر ممالک میں کھل کر اس طرح مخالفت نہیں کرتے جس طرح اسلام کے پہلے دور میں مسلمانوں کو ان مخالفتوں کا سامنا کرنا پڑا۔بلکہ یہ لوگ جو غیر مسلم ہیں اگر وہ مخالفت