خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 213 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 213

خطبات مسرور جلد 15 213 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 12 مئی 2017 ماننے والوں کی باتیں پڑھتے اور سنتے ہیں اور ابتدائی مسلمانوں کے ساتھ ہونے والے واقعات اور ان کی مظلومیت کی باتیں پڑھتے ہیں یا اپنے علماء سے سنتے ہیں لیکن احمدی مسلمان وہ ہیں جو مسیح محمدی کو ماننے کی وجہ سے ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام صادق کو ماننے کی وجہ سے، اسلام کی نشاۃ ثانیہ کے لئے آنے والے اللہ تعالیٰ کے فرستادے پر ایمان لانے کی وجہ سے عملاً اس حالت سے گزر رہے ہیں جو دوسروں کے لئے شاید مذہبی مظالم کے پرانے واقعات اور داستانیں ہوں۔بعض اور گروہ اور فرقے بھی یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہم بھی مذہب کی وجہ سے مخالفتوں اور دشمنیوں کا سامنا کر رہے ہیں لیکن یہ سب لوگ یہ جماعتیں یا گر وہ جو ہیں، وہ موقع ملنے پر اپنے مخالفین اور دشمنوں سے اسی طرح ظلم کر کے بدلہ بھی لے لیتے ہیں جس طرح کے ظلم ان پر ہوئے ہوتے ہیں لیکن احمدی ہی ہیں جو مومن ہونے کا نمونہ دکھاتے ہوئے، قانون کو اپنے ہاتھ میں نہ لیتے ہوئے، ظلموں پر صبر کرتے ہوئے، اللہ تعالیٰ کے آگے جھکتے ہیں اور اس سے مدد مانگتے ہیں۔پس احمدی مسلمانوں میں اور دنیا کے دوسرے لوگوں میں یہ ایک بہت بڑا فرق ہے۔ہم وہ لوگ ہیں اور ہمیں ایسا ہونا چاہئے کیونکہ ہم نے مسیح موعود کو مانا ہے، جو دنیاوی آزمائشوں اور مخالفین کی دشمنیوں کی وجہ سے نہ صبر کا دامن ہاتھ سے چھوڑنے والے ہیں، نہ اپنے ایمان سے پیچھے ہٹنے والے ہیں۔ہم اس بات کا ادراک رکھنے والے ہیں کہ ہمارے دکھوں کا مداوا صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔ہمیں تکلیف کے وقت دنیا داروں کے سامنے نہیں بلکہ سب طاقتوں کے مالک خدا کے سامنے جھکنا ہے۔اس سے مدد مانگی ہے۔وہی ہے جو ہمیں ہمارے صبر اور دعا کی وجہ سے ان مشکلات سے نجات دلانے والا ہے اور نجات دلائے گا انشاء اللہ۔وہ کبھی خالص ہو کر اپنی طرف جھکنے والوں کو خالی ہاتھ واپس نہیں کرتا۔وہ جو اس کی خاطر ، اس کی قائم کردہ جماعت کی خاطر قربانیاں دیتے ہیں انہیں ضرور جزا دیتا ہے۔ہم تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد پر عمل کرنے والے ہیں اور اس کا ادراک رکھنے والے ہیں جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مومن کا معاملہ بھی عجیب ہے۔اس کا تمام معاملہ خیر پر مشتمل ہے اور یہ مقام صرف مومن کو حاصل ہے۔اگر اس کو کوئی خوشی پہنچتی ہے تو یہ اس پر شکر بجالاتا ہے، الحمد للہ پڑھتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے حضور سجدہ ریز ہوتا ہے تو یہ امر اس کے لئے خیر کا موجب ہوتا ہے اور اگر اس کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو یہ صبر کرتا ہے تو یہ امر بھی اس کے لئے خیر کا موجب بن جاتا ہے۔(صحیح مسلم کتاب الزهد والرقائق باب المؤمن امره كله خير حدیث 7500) اللہ تعالیٰ کے راستہ میں بڑی تکلیفیں پہنچنا یا بڑی بڑی تکلیفیں پہنچنا اور اس پر صبر اور دعا بندے کو خیر کا موجب بناتے ہی ہیں لیکن اللہ تعالیٰ تو اپنے بندوں کو نواز نے والی وہ ہستی ہے جو چھوٹی سے چھوٹی تکلیف جو مومن کو پہنچتی ہے اس پر بھی اسے نوازے بغیر نہیں چھوڑتا۔چنانچہ اس بات کو بیان فرماتے ہوئے ایک موقع پر