خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 212
خطبات مسرور جلد 15 212 19 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 12 مئی 2017 خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 12 مئی 2017ء بمطابق 12 ہجرت 1396 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح، مورڈن، لندن، یو کے تشہد و تعوذ اور سورہ الفاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اس آیت کی تلاوت فرمائی: يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلوة - إِنَّ اللهَ مَعَ الصَّابِرِينَ (البقرة : 154) اے وہ لو گو جوایمان لائے ہو ( اللہ سے) صبر اور صلوۃ کے ساتھ مددمانگو۔یقینا اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔انسان کی زندگی میں بہت سے مسائل آتے ہیں جن کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ذاتی طور پر بہت سی دنیاوی مشکلات میں سے انسان گزرتا ہے۔ایسے حالات آتے ہیں جہاں سوائے صبر کے اور کوئی چارہ نہیں ہو تا۔مال، اولاد اور دنیاوی چیزوں کا نقصان ہوتا ہے۔یا تو دنیا دار روپیٹ کر ایسے حالات میں یہ نقصان برداشت کر لیتا ہے اور اکثر میں تو یہ برداشت نہیں ہوتا کیونکہ اس برداشت کرنے میں بھی ایک دنیا دار جیسے برداشت کر رہا ہوتا ہے کئی کفریہ کلمات اور اللہ تعالیٰ سے شکوے کے الفاظ منہ سے نکل جاتے ہیں۔یا بعض ایسے ہوتے ہیں جو دنیاوی نقصانوں کو برداشت نہ کرتے ہوئے بعض دفعہ دماغی توازن ہی کھو بیٹھتے ہیں۔لیکن اللہ تعالیٰ کے کچھ بندے ایسے بھی ہوتے ہیں جن کو صرف اس لئے جان، مال کا نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے یا ذ ہنی اذیتوں سے گزرنا پڑتا ہے یا جسمانی اذیتیں مار دھاڑ کی صورت میں برداشت کرنی پڑتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے حکم کو مانتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے کسی نبی اور اللہ تعالیٰ کے فرستادے پر وہ لوگ ایمان لانے والے ہوتے ہیں۔گویا ان کے دنیاوی مالی نقصان بھی خدا تعالیٰ کی خاطر ہوتے ہیں۔جانی نقصان بھی خدا تعالیٰ کے لئے ہوتے ہیں۔لیکن وہ اس سب نقصان سے بغیر کسی شکوے کے گزر جاتے ہیں۔ہاں اللہ تعالیٰ سے دعا ضرور کرتے ہیں کہ اے اللہ ! اب جبکہ ہم پر یہ سب کچھ تیرے بھیجے ہوئے کو ماننے کی وجہ سے وارد کیا جا رہا ہے تو ہمارے صبر کی طاقتوں کو بھی بڑھا اور خود ہی ہماری مدد کو آ اور ان ظالموں کے ظلموں سے ہمیں بچا۔تیری خاطر جس امتحان سے ہم گزر رہے ہیں اس میں ثبات قدم بھی عطا فرما۔دوسری دنیا تو انبیاء کی تاریخ پڑھتی ہے یا سنتی ہے، دوسرے مسلمان قرآن کریم میں انبیاء اور ان کے