خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 211
خطبات مسرور جلد 15 211 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 05 مئی 2017 کی پابندی ان کی ہمیشہ رہی۔خلافت سے بڑا تعلق تھا اور بچوں کو بھی تلقین کرتے تھے کہ خلافت سے جڑے رہنا۔ان کی اہلیہ اور دو بیٹے اور ایک بیٹی ہیں۔اللہ تعالیٰ شہید کے درجات بلند فرمائے اور ان کی نسلوں کو بھی ہمیشہ احمدیت سے وابستہ رکھے۔دوسرا جنازہ پروفیسر طاہرہ پروین ملک کا ہے جو ملک محمد عبد اللہ صاحب مرحوم کی بیٹی تھیں۔پنجاب یونیورسٹی میں یہ پروفیسر تھیں۔ان کو 17 اپریل کو ان کی یونیورسٹی کے ایک ملازم نے ہی چاقو سے وار کر کے شہید کر دیا۔گو کہ چوری کی نیت سے وہ آیا تھا اور جب کچھ دیکھا کہ انہوں نے دیکھ لیا ہے تو اس وجہ سے (شہید) کیا۔لیکن پاکستان میں احمدی ہو نا تو دوسروں کو ویسے ہی ایک لائسنس دے دیتا ہے کہ تم بیشک ان کو مار دو تمہارے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہو گی اور اسی وجہ سے اس ملازم میں بھی جرآت پیدا ہوئی اور جب اس نے دیکھا کہ میں پکڑا گیا ہوں۔اور یہ گھر میں اکیلی رہتی تھیں تو چاقو کے وار کر کے ان کو شہید کر دیا۔ان کے خاوند اور خاوند کا خاندان جماعت سے دُور ہو گیا تھا اور اسی وقت سے انہوں نے اپنے خاوند سے علیحدگی اختیار کرلی تھی اور اکیلی رہتی تھیں۔بہت لائق تھیں۔گزشتہ سال ریٹائر ہونے کے باوجود یونیورسٹی نے ان کی قابلیت کی وجہ سے ان کو ری ایمپلائی کیا ہوا تھا۔ان کے خاندان میں احمدیت ان کے دادا حضرت ملک حسن محمد صاحب صحابی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ سے آئی تھی۔ان کے والد ملک عبد اللہ صاحب بھی واقف زندگی تھے اور لمبا عرصہ ان کو مختلف دفاتر میں بڑی خدمت کی توفیق ملی اور تعلیم الاسلام کالج میں بھی دینیات پڑھانے کی توفیق ملی۔قیام پاکستان کے وقت ان کے والد کو شعبہ حفاظت میں بھی خدمت کی توفیق ملی۔1953ء میں ان کے والد اسیر بھی رہے تھے۔بڑی لائق خاتون تھیں۔انہوں نے ابتدائی تعلیم ربوہ سے حاصل کی۔پھر اس کے بعد لاہور کالج فار ویمن سے بی۔ایس۔سی کیا۔پھر زرعی یونیورسٹی سے ایم ایس سی کی اور پھر کیلیفورنیا سے انہوں نے بوٹنی (Botany) اور پلانٹ سائنس (Plant Science) میں ایم فل کیا۔اللہ تعالیٰ مرحومہ سے مغفرت اور رحم کا سلوک فرمائے۔ان کے درجات بلند کرے۔ہمیشہ ان کا جو صدمہ تھا وہ ان کی بیٹی تھی جو اپنے والد کے ساتھ ہی جماعت سے علیحدہ ہو گئی تھی۔اللہ تعالیٰ اس کو توفیق دے کہ دوبارہ جماعت میں شامل ہو جائے اور ان کی دعائیں اس کو لگیں۔اس کے ساتھ ہی ان کا جنازہ بھی جیسا کہ میں نے کہا نماز کے بعد پڑھاؤں گا۔الفضل انٹر نیشنل مورخہ 26 مئی 2017ء تائیکم جون 2017 ، جلد 24 شماره 21 صفحہ 0805)