خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page xxiii of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page xxiii

XV خطبات مسرور جلد 15 خلاصہ خطبات ان کا ہر ممبر نماز باجماعت کا عادی ہو بلکہ ہر ناصر کو خود اپنا جائزہ لینا چاہئے اور کوشش کرنی چاہئے کہ وہ نماز باجماعت کے عادی ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے نماز کی اہمیت، اس کی فرضیت، اس کی حکمت، اس کو پڑھنے کا طریق، اس کا مقصد، اس کا فلسفہ اور اوقات کا فلسفہ ، غرض اس موضوع پر مختلف پیرائے میں بار بار مختلف موقعوں پر اور جگہوں پر توجہ دلائی ہے۔آپ کے بعض ارشادات اس وقت میں پیش کروں گا جو اس کی اہمیت اور حکمت پر روشنی ڈالتے ہیں۔خطبہ: 40 مورخه : 06 اکتوبر خلاصہ: اللہ تعالیٰ کی طرف سے دنیا کے مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے افراد کی اسلام احمدیت کی صداقت کی طرف رہنمائی، تبلیغ میں ایم ٹی اے کے کردار، نئی جماعتوں کے قیام، نو احمدیوں کے اخلاص و وفا، قربانی اور جذبہ تبلیغ، قبولیت دعا، صبر و استقامت، اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کو تقویت ایمان کے لئے زبر دست نشانوں کا اظہار، مخالفین کی مخالفت اور ان سے خدا تعالیٰ کے عبرتناک سلوک، جماعتی کتب ولٹریچر کی تاثیرات، بیعت کے بعد اپنی زندگیوں میں نمایاں پاک تبدیلیوں ، ریڈیو پروگراموں کے ذریعہ بیعتوں اور تبلیغی مساعی کے نیک اثرات سے متعلق نہایت ایمان افروز اور روح پرور واقعات کا تذکرہ۔خطبہ:41 مورخہ : 13 اکتوبر بمقام : بیت الفتوح - لندن بمقام: بیت الفتوح لندن صفحہ:490-476 صفحہ :504-491 خلاصہ: پاکستان میں سیاستدان بھی اور علماء بھی وقتاً فوقت کسی نہ کسی بہانے سے احمدیوں کے خلاف اپنا غبار نکالتے رہتے ہیں۔ان کے خیال میں قوم کو اپنے پیچھے چلانے اور اپنا ہم نو ابنانے کا اور شہرت حاصل کرنے کا یہ سب سے آسان طریقہ ہے۔اور سب سے بڑا ہتھیار جو مسلمانوں کے جذبات کو بھڑ کانے کے لئے استعمال ہو سکتا ہے وہ ختم نبوت کا ہتھیار ہے۔جہاں تک جماعت احمدیہ کا تعلق ہے ہم نے کسی غیر ملکی طاقت سے نہ ہی کبھی یہ کہا ہے کہ ہمیں پاکستانی اسمبلی کے آئین میں ترمیم کر واکر قانون اور آئین کی نظر میں مسلمان بنوایا جائے۔نہ ہی ہم نے کسی پاکستانی حکومت سے کبھی اس چیز کی بھیک مانگی ہے۔نہ ہی ہمیں کسی اسمبلی یا حکومت سے مسلمان کہلانے کے لئے کسی سرٹیفکیٹ کی ضرورت ہے، کسی سند کی ضرورت ہے۔ہم اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں کیونکہ ہم مسلمان ہیں۔ہمیں اللہ تعالیٰ نے اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمان کہا ہے۔ہم کلمہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ پڑھنے والے ہیں۔ہم تمام ارکان اسلام اور ارکان ایمان پر یقین رکھتے ہیں۔ہم قرآن کریم پر ایمان رکھتے ہیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبیین مانتے ہیں۔ہم اس بات پر علی وجہ البصیرت قائم ہیں کہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین ہیں بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے صاف صاف اور واضح لکھا ہے۔متعدد جگہ اس کی وضاحت فرمائی ہے کہ جو ختم نبوت کا منکر ہے میں اسے بے دین اور دائرہ اسلام سے خارج سمجھتا ہوں۔وہ نہ احمد ی ہے منہ مسلمان ہے۔پس ہمارے خلاف یہ شورش پیدا کی جاتی ہے اور ہم پر جو الزام لگایا جاتا ہے کہ ہم ختم نبوت کے منکر ہیں اور نعوذ باللہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبیین نہیں مانتے۔یہ نہایت گھٹیا اور گھناؤنا الزام ہے جو ہم پر لگایا جاتا ہے۔پاکستان کی اسمبلی میں قانون بنانے کے الفاظ کے بارے میں ان کے جو آپس کے معاملات طے تھے ان کے طے ہو جانے کے بعد پھر چند دن پہلے ایک ممبر اسمبلی نے بلا وجہ ایک اشتعال دلانے والی تقریر کی ہے۔یہ صرف اسمبلی کے ممبران کو جھوٹی غیرت دلانے کے لئے نہیں تھی بلکہ اس کے ساتھ ہی عوام کو بھڑ کانے اور ملک میں فساد پیدا کرنے کی ایک کوشش تھی تا کہ احمدیوں کے خلاف سارے اٹھ کھڑے ہوں۔اور یہ بھی اس کی کوشش تھی کہ اپنے آپ کو ملک کا بڑا وفادار لیڈر ثابت کرے تاکہ اس کی سیاسی زندگی کو شاید کوئی نئی زندگی مل جائے۔اپنی طرف سے بڑا میدان مارنے والے اس ممبر اسمبلی نے کہا کہ ہماری غیرت گوارا نہیں کرتی