خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 210
خطبات مسرور جلد 15 210 مه فرمودہ مورخہ 05 مئی 2017 عبد اللہ صاحب خانپور ضلع رحیم یار خان کا ہے جن کو 3 مئی کو شہید کر دیا گیا۔إِنَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ۔ان کی تفصیلات کچھ اس طرح ہیں کہ بشارت احمد صاحب شہید کا گھر خانپور میں گرین ٹاؤن میں ہے اور ان کا کاروبار ان کا پٹرول پمپ تھا جو چار پانچ کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔3 مئی کو یہ رات کو آٹھ بجے حسب معمول اپنے پٹرول پمپ سے موٹر سائیکل پر گھر کے لئے روانہ ہوئے۔ابھی ایک کلو میٹر کا فاصلہ ہی طے کیا تھا کہ نامعلوم افراد نے روک کر بڑے قریب سے آپ کو گولی ماری جو دائیں طرف کی کنپٹی کے قریب سے لگ کر دوسری طرف نکل گئی جس سے موقع پر ہی آپ شہید ہو گئے۔إِنَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔دس منٹ بعد ان کے داماد بھی پٹرول پمپ سے گھر کے لئے روانہ ہوئے۔وہاں جاکے انہوں نے دیکھا کہ رستے میں لوگ کھڑے ہیں، رش پڑا ہے۔یہ بھی رکے۔دیکھا تو ان کے سسر وہاں گرے پڑے تھے۔انہوں نے فوری طور ایمبولینس بلائی لیکن اس کے آنے سے پہلے ہی شہید کی وفات ہو چکی تھی۔ان کے داماد پہلے تو یہی سمجھتے رہے کہ یہ سڑک کا کوئی ایکسیڈنٹ ہوا ہے لیکن بعد میں رات کو ایک احمدی ڈاکٹر نے دیکھا اور پھر بتایا کہ یہ تو ان کی کنپٹی پر گولی لگی ہوئی ہے۔پھر دوبارہ پولیس کو بتایا گیا۔پھر پوسٹ مارٹم ہوا اور پھر پولیس نے یہی کہا کہ یہ ٹارگٹ کلنگ (target killing) ہے اور احمدی ہونے کی وجہ سے آپ کو شہید کیا گیا ہے۔وہاں جائے وقوعہ سے پولیس نے بعد میں جاکے پھر گولی کے خول بھی حاصل کر لئے۔شہید مرحوم کے خاندان میں احمدیت کا نفوذ آپ کے والد مکرم محمد عبد اللہ صاحب کے ذریعہ سے ہوا۔آپ نے حضرت خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہاتھ پر پاکستان بننے سے پہلے بیعت کی تھی اور 1947ء میں آپ کا خاندان قادیان سے ہجرت کر کے میانوالی پاکستان شفٹ ہو گیا۔1955ء میں بھکر میں ان کی (شہید کی پیدائش ہوئی تھی۔وہیں اپنے گاؤں میں انہوں نے ابتدائی تعلیم حاصل کی۔پھر اس کے بعد چنیوٹ، احمد نگر ربوہ میں تعلیم حاصل کی۔اس کے بعد تربیلا ڈیم میں آپ نے کچھ عرصہ ملازمت کی۔پھر کچھ عرصہ کے لئے آپ دبئی چلے گئے۔وہاں سے واپس آکر کراچی رہائش اختیار کی اور وہاں کاروں وغیرہ کا اپنا کچھ کاروبار کیا اور 1985ء میں کراچی کے خراب حالات کی وجہ سے خانپور شفٹ ہو گئے اور وہاں اپنا پٹرول پمپ بنایا۔شہید مرحوم اللہ تعالیٰ کے فضل سے موصی تھے۔شہادت کے وقت آپ کی عمر 62 سال تھی۔مختلف عہدوں پر خدمت کی توفیق ملی۔تین سال تک صدر جماعت خانپور رہے۔ایک لمبا عرصہ سیکرٹری امور عامہ کے طور پر خدمت کی توفیق پائی۔بیشمار خوبیوں کے حامل تھے۔انتہائی مخلص ہنس مکھ انسان تھے اور دوسروں کو بھی خوش رکھتے تھے۔جو بھی جماعتی ذمہ داری ان کو دی جاتی اس کو پوری محنت اور شوق سے انجام دیتے۔جماعت احمدیہ کی خانپور مسجد جو ہے وہاں بھی اس کی نگرانی وغیرہ کے کافی کام کرتے تھے اور اس کو بڑا صاف ستھرارکھنا، اس کے لان وغیرہ کا خیال رکھنا، صفائی کا انتظام کرنا، پودے لگانا سب کچھ اپنی جیب سے یہ کرتے رہے۔چندہ دینے میں بڑے با قاعدہ تھے۔اسی طرح اپنے خاندان کے چندہ دینے میں با قاعدہ تھے اور لین دین کے معاملے میں ہمیشہ صاف تھے۔نمازوں